شراب کے نشے میں مدہوش تین مرتبہ طلاق دے دی بعد ہوش انکاری ہے!
گیارہ بجے رات میں آئے خوب پیٹے ہوئے تھے ، ہوش نہیں تھا۔ اللہ جانے باہر سے کیا کر کے آئے ، میں نہیں جانتی۔ میرے سے حجت کرنے لگے اور اسی حجت میں میرے کو ایک سانس میں انہوں نے یہ کہا: میں نے تجھے طلاق دی، دی۔ یہ کہہ کر پھر رک گئے پھر حجت کرنے لگے اور پھر ایک مرتبہ کہا: میں نے تجھے طلاق دی۔ صبح اٹھی تو میرے کو پیسے دئے ، بولے: چل چائے بنا۔ تو میں بولی کہ تم نے میرے کو رات میں طلاق دی تو وہ بولے کہ میں نے تیرے کو طلاق نہیں دیا چل پکا۔ کوئی گواہ نہیں تھا، ہم دونوں کے سوا۔ یہ بات جو لکھی ہوں، اللہ جانتا ہے سچ اور حقیقت ہے۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ واقعی طلاق ہو گئی یا نہیں؟ دستخط رواب النساء
الجواب: صورت مسئولہ میں بر تقدیر صدق سوال تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت گزار کر دوسرے سے نکاح صحیح کر کے جماع کرے۔ پھر وہ طلاق دیدے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے تو یہ عدت گزار کر پہلے سے نکاح کر لے۔ قال تعالیٰ: {حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : لاحتی تذوقی عسیلته ویذوق عسیلتک اور یہ اس لئے کہ ہمارے ائمہ اعلام کے نزدیک سکران کی طلاق واقع ہے جبکہ نشہ حرام کے سبب ہو۔ ہدایہ میں ہے: و طلاق السکران واقع در مختار میں ہے: ولو بنبيذ او حشيش او افیون او بنج زجراً به یفتی: تصحیح القدوری واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح وصواب والحجیب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی