لڑکی کا طلاق کا جھوٹا دعویٰ کر کے پھر اس سے رجوع کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: زید اور ہندہ آپس میں میاں بیوی ہیں باہمی ناراضگی کے سبب ہندہ نے شوہر سے ناراض ہوکر یہ کہنا شروع کر دیا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی۔ لڑکے سے جو کہ اس کا شوہر ہے، معلوم کیا تو اس نے کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی ہے، ہندہ غلط کہتی ہے ۔ کوئی گواہ اس معاملہ کا نہیں ہے۔ ہندو ایک سال سے اسی وجہ سے اپنے باپ کے گھر ہے۔ اب لڑ کی ہندہ یہ کہتی ہے کہ میں نے جو کچھ کہا تھا کہ مجھ کو میرے شوہر نے طلاق دیدی، غلط کہا تھا میں اپنے اس جھوٹ سے تو بہ کرتی ہوں اور اپنے شوہر کے گھر جانا چاہتی ہوں ۔ لہذا حکم شرعی سے مطلع فرمایا جائے کہ لڑکی کو طلاق ہوئی کہ نہیں ؟ اور وہ اپنے شوہر کے گھر آسکتی ہے کہ نہیں ؟ کسی قسم کا کفارا ادا کرنا ہے کہ نہیں ؟ عین نوازش ہوگی ۔ المستلقین : مسلمانان سنگترہ تحصیل بهیر ی ضلع بریلی
الجواب: لڑکی جبکہ تین طلاقوں کی مدعیہ ہے تو اسے حلال نہیں کہ شوہر کو خود پر قابو دے بلکہ اس سے ایسی دور بھاگے جیسے شیر سے، جیسے سانپ سے۔ رد المحتار میں ہے: في البزازية قالت طلقنى ثلاثا ثم ارادت تزویج نفسها منه ليس لها ذالک اصرت علیه اماکذبت نفسها ۔ اور اب یہ اقرار کہ اس نے جھوٹ کہا تھا، سودمند نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۵ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ