بعد ارتداد شوہر نے طلاق دی تو کب واقع ہوگی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ: زید شادی شدہ ہے اس نے دھاپ ٹھا کر جسے گرام بھی کہا جاتا ہے، اس کی منت مانگی ۔ مقصد پورا ہونے کے بعد اسے سجدہ کر لیا۔ چنانچہ اس آدمی کے متعلق شرع کا کیا حکم ہے؟ کہ اس نے منت پوری کرنے کے لئے دھاپ ٹھا کر کو سجدہ کیا۔ پھر اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔ یہ طلاق اس کی واقع ہوئی یا نہیں؟ مذہب احناف کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
الجواب: بت کی منت ماننا اور اسے سجدہ کرنا شرک ہے۔ زید بے قید بر تقدیر صدق سوال افعال مذکورہ شرکیہ کے سبب کافر مرتد بے دین ہو گیا۔ نئے سرے سے تو بہ صحیحہ وتجدید ایمان کر کے داخل اسلام ہو ورنہ ہر واقف حال مسلم اسے چھوڑ دے اور طلاق اگر عدت میں دی تو واقع ہوگئی ۔ جیسی اور جتنی طلاقیں دی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہو گئیں کہ مرتد جب تک دارالحرب میں نہ پہنچے، اس کی طلاق بحالت قیام عدت زوجہ واقع ہوگی۔ در مختار میں ہے: كل فرقة هي فسخ من كل وجه كاسلام وردة مع لحاق و خيار بلوغ و عتق لا يقع الطلاق في عدتها (1) ردالمحتار میں ہے: قوله (وردة مع لحاق اى اذا ارتد و لحق بدار الحرب فطلق امرأته لا يقع (الى) وقيد باللحاق اذا بدونه يقع لأن الحرمة غير متابدة فانها ترتفع بالاسلام ) والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله