ایک دو تین ساڑھے تین کے الفاظ سے طلاق کے وقوع کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید خالد اور بکر رات میں بیٹھ کر زید کی بیوی ہندہ کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے کہ تم چھوڑ دو ہم نکاح کر لیں گے کہ اتنے میں زید کی بیوی ہندہ بھی آگئی۔ زید نے ہندہ سے کہا کہ تم بار بار کہتی ہو کہ ہم کو چھوڑ دو، ہم خالد سے شادی کریں گے۔ زید کی بیوی ہندہ نے کہا کہ ہم خالد سے شادی کریں گے، جیسے بھی ہو۔ پھر خالد نے زید کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ابھی چھوڑ دو ہم شادی کریں گے۔ ہم شادی کریں گے تو ہندہ ہی سے کریں گے ور نہ نہیں۔ اتنے میں زید نے ہندہ سے کہا کہ ایک دو تین ساڑھے تین۔ جاؤ تم دونوں رہو۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ زید اپنی بیوی ہندہ کو اب تک اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہے۔ اور دریافت یہ ہے کہ اگر ہندہ کو طلاق ہو گئی تو اب زید کے ساتھ ہندہ کے نکاح کی کیا صورت ہے۔ حکم شرعی سے اطلاع فرما ئیں۔ کرم ہوگا! المستفتی: محمد سہیل احمد نجمی حبیبی پوسٹ امار پور کٹوریا ، واید امار پور ضلع بھاگلپور ( بہار )
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق بائن لفظ ”جاؤ سے پڑگئی اور ایک دو تین سے طلاق کی نیت تھی تو تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور ہنسی مذاق کا عذر کار گر نہیں کہ طلاق جنسی میں واقع ہو جاتی ہے۔ (1) در مختار میں ہے: (1) ( ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) (ولو عبدااوهازلا؟) “ملتقطا ) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۵ ررمضان المبارک ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی تنویر الابصار مع الدر المختار ، كتاب الطلاق، ج ۴، ص ۴۴۳ - ۴۳۸، دار الكتب العلمية بيروت