طلاقنامہ میں طلاق بائن غیر رجعی دیدی تین بار دہرایا تو کتنی طلاق ہوئی ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: سرفراز حسین ولد ممتاز حسین ساکن بہاری پور معماران، بریلی کی بیوی پارہ بی اپنے ماں چچا کے یہاں گئی تو اس کی ماں، چا اور بھائی نے اس کو زبر دستی روک لیا اور کسی طرح سے چالبازی کر کے پارو نبی کو پاکستان بھیج دیا اور پارہ بی کے ایک لڑکا تھا جس کو پارہ کی ماں اور بچا بھائی اپنے پاس ہی روک لئے ۔ جب سرفراز حسین اپنی بیوی پارہ کو لینے سسرال گیا تو اسے پتہ چلا کہ میری بیوی کو سسرال والوں نے کوئی چالبازی کر کے پاکستان بھیج دیا ہے اور لڑکا روک لیا ہے ۔ سرفراز حسین نے یہ جان کر اپنا لڑ ک مانگا تو پارہ کی ماں چچا اور بھائی نے سرفراز کولر کا دینے کی یہ شرط رکھی کہ تم کو کچہری چل کر طلاقنامہ پر دستخط کرنے ہوں گے ۔ یہ طلاقنامہ وہ لوگ پہلے ہی سے لکھوا کر اپنے پاس رکھے ہوئے تھے۔ جو بتاریخ ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء کو لکھا گیا تھا جس میں یہ دکھایا ہے کہ سرفراز حسین نے ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء کو اپنی بیوی پارہ کو طلاق دی ہے جو کہ بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔ ۱۵ /جنوری ۱۹۸۵ء کو بہت مجبور ہو کر اپنے بچے کی پرورش کی خاطر سرفراز حسین نے اپنا بچہ لینے کے لئے طلاقنامہ دینے کی نیت دل سے نہ چاہتے ہوئے مجبور اطلاقنامہ پر دستخط کر دئے مگر زبان سے نہ پہلے کبھی اور نہ آج تک طلاق دی ہے جو کہ طلاقنامہ میں لکھا گیا ہے ۔ اب پارہ پاکستان سے واپس آگئی ہے۔ کیا پارہ کو طلاق واقع ہوگئی یا نہیں؟ کیا وہ اپنے شوہر کے پاس جس کا نام سرفراز حسین ہے، رہ سکتی ہے؟ مع دلیل جواب عنایت فرمانے کی زحمت کریں۔ (نوٹ:) نہ ہی طلاقنامہ سرفراز کو پڑھ کر سنایا گیا تھا اور نہ ہی یہ اردو جانتا ہے اور نہ ہی اس طلاق نامہ کالڑکی کو پتہ تھا۔ المستفتی: ممتاز حسین بہاری پور معماران، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں شوہر نے اتنا ضرور سمجھا کہ یہ کاغذ طلاقنامہ ہے لہذا اس کی رو سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی۔ اگر چہ طلاقنامہ میں طلاق بائن غیر رجعی دیدی تمین بار دہرایا ہے اور یہ اس لئے کہ بائن کو بائن لاحق نہیں ہوتی ۔ در مختار میں ہے: لا يلحق البائن البائن (1) عدت کے اندر خواہ بعد عدت برضائے زن بمہر جدید نکاح کا اختیار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۳۰ / رجب المرجب ۱۴۰۵ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی