بیوی کو ماں کے گھر جانے پر طلاق کی شرط لگانے کا حکم
۳۰؍ رجب المرجب ۱۴۰۵ھ اپنی ماں کے گھر گئی تو طلاق مطلق ، طلاق مطلق ، طلاق مطلق سمجھے محترم مفتی صاحب! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ: جناب شکیل احمد نے دوران ان بن اپنی بیوی سے یوں کہا: اگر اس وقت اپنی ماں کے گھر گئی تو طلاق مطلق ، طلاق مطلق، طلاق مطلق سمجھ۔ اس کے بعد شکیل احمد کی بیوی بنا جواب دے کئی مختلف گھروں پر رکتی ہوئی اپنی ہمشیرہ کے گھر چلی گئیں اور ایک ماہ سے وہیں سکونت پذیر ہیں۔ ایسی حالت میں لیا طلاقیں واقع ہو گئیں؟ یا شکیل احمد کی بیوی اس وقت اپنی ماں کی گھر چلی جائے تو کیا طلاقیں واقع ہو جائیں گی؟ یا شکیل احمد کی بیوی اپنے شو ہر شکیل احمد کے گھر پر آ کر کبھی اپنی ماں کے گھر چلی جائے تو کیا طلاق واقع ہو جائیں گی؟ مندرجہ بالا فتویٰ ۲۷ / دسمبر کو ہونے والی پنچایت میں پیش کیا جائیگا۔ممکن ہو تو جواب جلد دیگر ممنون فرمائیں ۔ سلام بالاحترام احقر حنیف کانٹوی، کانٹ، شاہجہانپور 242215
الجواب: صورت مسئولہ میں بہر حال طلاق واقع نہ ہوں گی ۔ وہ ماں کے گھر جائے تو اور نہ جائے تو ۔ کنز و تکملہ بحر میں ہے: (ولو قال الزوج داده انکار و کرده (انکار) لا يقع الطلاق (وان نوى)) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ ربیع الاول ۱۴۰۲ھ تكملة البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الخنثی مسائل شتی ج ۸، ص ۳۵۰ مکتبه زکریا