حالت حمل میں دی گئی طلاق کے وقوع کا حکم
سوال
حمل میں طلاق دے گا تو پڑ جائے گی ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اور وہ حمل سے ہے میرے یہاں (مبر ) میں ایک مولوی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: حمل میں طلاق نہ دینا چاہئے شرعاً اس سے ممانعت ہے مگر طلاق حمل میں دی تو واقع ہوگئی اور عدت وضع حمل ہے۔ قال تعالیٰ: ا وَ أُولاتُ الْأَعْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ } () بچہ پیدا ہونے پر عدت ختم ہو جائیگی اور اگر تین طلاقیں دی ہیں تو بغیر حلالہ اس عورت سے نکاح حلال نہ ہوگا ۔ اور تفسیر نعیمی میں اس جگہ یہ واقعہ نہیں ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۳ / ذوالحجہ ۱۴۱۱ھ/۲۶ جون ۱۹۹۱ء
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۱۹–۱۲۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
عذر شرعی کی بنا پر بڑی بہن کو طلاق دے کر چھوٹی سے نکاح کرنا
باب: کتاب الطلاق
حالت جنون (دماغی توازن بگڑنے) میں دی گئی طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق
تمثيلاً وحكاية الفاظ طلاق کہے تو طلاق کا حکم ہوگا کہ نہیں؟
باب: کتاب الطلاق
دو مرتبہ زبان سے ایک مرتبہ دل میں ، طلاق دی تو دو ہو ئیں یا تین؟
باب: کتاب الطلاق
بیوی کو ماں کے گھر جانے پر طلاق کی شرط لگانے کا حکم
باب: کتاب الطلاق