طلاق کے مخصوص الفاظ ’میرے طلاق اور میرے طلاق ، اللہ کرے طلاق‘ کے وقوع کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید نے اپنی ماں کے سامنے ہندہ کو طلاق دی۔ زید نے ایک بار یہ کلمہ کہا: ” میرے طلاق اور میرے طلاق ، اللہ کرے طلاق ۔ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ صحیح جواب عنایت فرما ئیں! المستفتی: محمداحمد حسین صندل خاں بازار، بریلی شریف
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: زید اگر ہندہ سے دخول یا خلوت صحیحہ کر چکا ہے تو ہندہ پر دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے۔ جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو مرد متقی پرہیز گار کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ۔ مگر یہ حکم جب ہے کہ پہلے ایک نہ دے چکا ہو۔ ورنہ حلالہ کے سوا چارہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۵ محرم الحرام ۱۳۹۶ھ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۲۴–۱۲۵
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
گواہان شرعی کے سامنے تین طلاقوں کے اقرار کا حکم
باب: کتاب الطلاق
بار بار طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
باب: کتاب الطلاق
دو مرتبہ زبان سے ایک مرتبہ دل میں ، طلاق دی تو دو ہو ئیں یا تین؟
باب: کتاب الطلاق
شراب کے نشہ میں دی گئی تین طلاقوں کا وقوع اور اس کے احکام
باب: کتاب الطلاق
حالت جنون (دماغی توازن بگڑنے) میں دی گئی طلاق کا حکم
باب: کتاب الطلاق