شراب کے نشہ میں دی گئی تین طلاقوں کا وقوع اور اس کے احکام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ایک شوہر نے شراب کے نشہ میں چند گواہوں کی موجودگی میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی۔ از روئے شرع شریف جواب عنایت فرمائیں کہ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی کہ نہیں؟ اور شوہر کا ایسی حالت میں بیوی سے جدا نہ ہونا اور شوہر بیوی کے تعلقات کو حسب دستور سابق برقرار رکھنا کیسا ہے؟ اور مسلمانوں کو ایسی حالت میں کیا سلوک کرنا چاہئے ؟ فقط محمد نظام الدین کلکتہ
الجواب: صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئیں اور عورت شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلا حلال نہ ہوگی۔ کہ ہمارے علمائے کرام احناف کے نزدیک سکر ان کی طلاق واقع ہو جاتی ہے جبکہ نشہ بذریعہ حرام ہو۔ ہدایہ میں ہے: و طلاق السكران واقع (۱) کتاب الطلاق باب الطلاق در مختار میں ہے: ولوبنبيذ او حشیش او بنج او افیون به یفتی، تصحیح القدوریا (۲) واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی