طلاق کے اقرار اور تعداد طلاق کے وقوع اور حلالہ سے متعلق حکم
رکھے ہوئے ہے۔ اس دن لوگوں نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی اور ایک شخص نے کہا کہ طلاق ہوگئی تو لوگ اس کو نہیں مانے ۔ جواب دینے کی زحمت گوارا فرماویں!
الجواب: شخص مذکور نے جیسی اور جتنی طلاقوں کا اقرار کیا، ویسی اور اتنی ہی طلاقیں اس کی بیوی پر ہوگئیں اور اگر متعدد بار بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے لوگوں سے یہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے تو تینوں طلاقیں ہو گئیں جبکہ تین مرتبہ یا زائد کہا ہو اور اب بیوی ایسی حرام ہے کہ بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت عدت بیٹھے اور پھر دوسرے سے نکاح صحیح کرے، ہمبستری، ولی کرے پھر وہ طلاق دے یا مر جائے یا عیاذ باللہ مرتد ہو جائے تو عورت عدت کر کے پہلے کے ساتھ نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: (فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ) وقال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : لا حتٰی تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک اور اگر ایک بار یا دو مرتبہ طلاق یہ لفظ صریح دی تھی اور لوگوں سے خبر دینے کو کہا کہ طلاق دیدی ہے، مزید طلاق دینے کی نیت نہ تھی تو ایک یا دور جھی ہو ئیں اور رجعت اس کے رکھنے سے ہوگئی۔ اب اس پر الزام نہیں ۔ جو صورت واقعہ ہو ،تحریر کر کے سوال کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲ / رجب المرجب ۱۳۹۷ھ