مشروط طلاق کی صورت میں شرط پائے جانے پر تین طلاقوں کے وقوع کا حکم
شک وشبہہ : ۱۰رجون رات ۸ /بجے کے واقعہ سے مراد شرعی یہ سمجھ میں آتی ہے کہ شب جمعہ اور روز جمعہ ( آج) ہے اور شب ہفتہ یعنی ا ارجون دن گزرنے کے بعد ( کل ) شروع ہوتا ہے جس کا اختتام ۱۲ / جون شام تک ہوتا ہے۔ ویسے آج ۱۲ جون ۹ بجے زید کی بیوی اپنی والدہ کے ہمراہ ان لوگوں کی مرضی سے اپنے میکے آ گئی ہے۔ زید کی بیوی کا بیان: پہلے یہ کہا کہ اگر اس گھر سے نہ گئیں تو تین طلاق دی ، پھر میں نے پریشان ہوکر کہا کہ اگر آپ کو اسی طرح کی باتیں روز روز کرنا ہے تو پھر میں کل نہ جاؤں گی، پرسوں جاؤں گی کہ روز روز کا جھگڑا ختم ہو جائے تو یہ کہا کہ تم ہم سے نہیں جیت سکتی اب اگر پرسوں جاؤ تو ایسا ہے، کل جاؤ تو ایسا ہے۔ اور جب پہلی بار یہ کہا تو میں نے یہ بھی کہا اگر میں یہاں سے چلی جاؤں گی تو آپ آئیں گے پھر ہم کو چھوڑ تو نہ دیں گے تو کہا کہ ہاں ہم آئیں گے تم کو سب خرچ دیں گے اور جب ۶ مہینے سال بھر ۲ سال میں جب بھی مکان کا انتظام ہو جائیگا تم کو اپنے ساتھ رکھیں گے پھر جب میں آنے کو تیار ہوگئی تو یہ کہا کہ میں نے اپنا سب کہا ہوا واپس لیا۔ ۳ بار کہا اور یہ بھی کہا کہ میں اپنی ساری شرطیں واپس لیتا ہوں ۔ اب تم پر کوئی پابندی نہیں ہے، نہ جانے میں، نہ نہ جانے میں ۔ اور آج جب میں آئی ہوں تو بار بار پوچھ کر آئی ہوں کہ میں جاؤں ، آپ خوشی سے اجازت دیتے ہیں؟ کسی ناراضگی سے تو نہیں؟ کہ رہے ہیں اب کوئی جھگڑے کی بات تو نہیں ہے؟ تو کہا کہ نہیں تم چاہو آ سکتی ہو، کوئی بات نہیں ہے۔ المستفتی: فخر الکریم صدیقی ، 3. C ، گلاب باڑی کالونی، الہ آباد 211003
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ زید کی بیوی اارجون کو نہ گئی بلکہ ۱۲ جون کوگئی تو تین طلاقیں جس شرط پر معلق تھیں وہ شرط موجود ہوگئی اور تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور زید پر اس کی بیوی ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے بھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت اگر پہلے شوهر کے ساتھ رہنا چاہے تو دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے پھر پہلے سے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ / رمضان المبارک ۱۴۰۲ھ