جبری طلاق، جرمانہ اور انجمن کے ذریعے نکاح فسخ کرنے کے متعلق سوالات
چاہتی ہے۔ بعد ایک سال کے جالیم میاں نے اپنی لڑکی کا عقد امیر الدین میاں تھوریا کے لڑکے کے ساتھ کر دیا۔ لڑکا شمس الدین دوبارہ مقدمہ انجمن میں پیش کیا۔ انجمن نے امیر الدین پر ۱۵۰۰ روپے جرمانہ کیا اور لڑکی کو بھی انجمن کے ذمہ رکھا گیا۔ لڑکی ادھر کی نہ ادھر کی۔ لڑکا ادھر کا نہ ادھر کا رہا۔ علامہ مفتی دین اس پر غور فرماتے ہوئے فتویٰ دیں کہ یہ سب جائز ہے کہ غلطی ہے؟ اس حالت پر جرمانہ کرنا ٹھیک ہوا؟ اگر لڑ کی زنا میں مبتلا ہوگی اور لڑکے نے بھی زنا کیا تو اقرار لینا جائز ہے کہ نہیں ؟ اور طلاق جالیم میاں نے لیا، وہ ہوا کہ نہیں ؟ اور دوسرا عقد لڑ کی کا وہ غلط ہوا یا جائز ؟ غور کرتے ہوئے آنجناب فتوی دیں۔ علامہ مفتی دین اگر کوئی عورت مرد زنا میں مبتلا ہو تو کفارہ دینا جائز ہے؟ اور زنا کرنے والے پر جرمانہ لینا جائز ہے؟ مہربانی کے ساتھ جواب دیں۔ (۲) آج کلومیاں کی لڑکی عاصمہ خاتون اور مشکور میاں کا لڑکا عظیم الدین ، ان دونوں میں عقد ہوا تھا لیکن لڑکے نے شادی کرنے کے بعد عاصمہ خاتون سے کسی طرح کا تعلق نہیں رکھا اور برابر یہ زبان سے کہتا تھا کہ تم کو اپنے ساتھ میں نہیں رکھوں گا۔ تین سال تک اسی حالت میں لڑکی رہی لڑکالڑ کی ایک کمرہ میں نہیں ہوئے، اور نہ صحبت ہوئی۔ بعد میں لڑکا سفر پر گیا جو کہ کوئی خرچ لڑکی کو نہیں دیا۔ دو سال لڑکا گھر نہیں آیا، نہ خط لکھا۔ بعد میں لڑکی کی طرف سے انجمن میں مقدمہ پیش کیا گیا۔ بعد میں انجمن حدیث کی رو سے بخاری شریف کے مطابق ایک امام شافعی المسلک سے مسئلہ پوچھ کر لڑ کے کو رجسٹری خط کے ذریعہ آگاہ کیا کہ لڑکی دوسرا عقد کرنے جا رہی ہے، فلاں تاریخ کو عدت گزارنے کے بعد اگر کسی طرح کا حق آور کرنا ہو تو آزاد کر ولیکن لڑکا نہیں گیا۔ اور دوسری شادی ہونے کے بعد لڑ کا ایک سال گزرنے کے بعد آیا اور لڑ کا دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے لڑکی چاہئے ، ہم نے طلاق نہیں دی۔ نکاح فسخ انجمن نے اس لئے کروایا کہ لڑکی کے زنا میں مبتلا ہونے کا اندیشہ تھا۔ اور لڑکا لکھ کر دیا کہ ہمارے بغیر رائے لئے نکاح کر دئے تھے ، ہم اس کے یہاں نہیں جائیں گے۔
الجواب: جالیم میاں ضلع گریڈ یہہ، بہار (1) شمس الدین سے اگر واقعی یہ جبر وا کر اہ شرعی طلاق لکھوائی گئی تو اس کی وہ لکھی ہوئی طلاق واقع نہ ہوئی ، زبان سے اگر الفاظ طلاق بولے ہوں تو بہر حال طلاق واقع ہوگئی ۔ جیسی اور جتنی طلاقیں بولی ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں ہو گئیں اور اکراہ شرعی یہ ہے کہ جان سے مارنے یا قطع عضو یا ضرب شدید کی دھمکی دے اور وہ اس پر قادر بھی ہو، محض کسی کا معمولی دباؤ مانع طلاق نہیں۔ لہذا اگر اس نے زبان سے طلاق دی تھی یا بے اکراد شرعی ہی تحریری دی تو طلاق ہوگئی اور عقد ثانی صیح ہوا جبکہ بعد عدت ہوا۔ اسے انجمن کا فسخ کردینا ناجائز و گناہ ہے۔ اور مالی جرمانہ بہر حال حرام ہے اسے واپس کرنا لازم ہے اور اگر زبان سے طلاق نہ دی اور ا کراہ واقعتا ملجی تھا تو طلاق نہ ہوئی اور وہ بدستور اس کی منکوحہ ہے۔ دوسرے سے اس کا نکاح حرام تقطعی ہے اور اگر دوسرے کو علم تھا کہ وہ عورت منکوحہ ہے تو نکاح باطل محض ہوا اور قربت خالص زناور نہ فاسد ہوا اور بعد علم جدائی فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان دیار میں شافعی بننے والے نرے غیر مقلد وہابی ہیں ۔ جو گمراہ بددین ہیں ۔ ان کا فسخ کرنا صحیح نہیں فی الواقع اگر کوئی سی صحیح العقید ہ شافعی المذہب عالم مرجع فقومی اپنے مذہب پر نسخ کر دے تو بلا شبہ صحیح ہوگا۔ صورت مسئولہ میں چارہ کا اس سے بہرصورت طلاق حاصل کرنا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی