شرعی طلاق ثابت نہ ہونے کی صورت میں بائیکاٹ اور فتویٰ سے انکار کا حکم
چودھری اور عورت خود اور گواہان حاضر ہو کر نائب مفتی اعظم ہند کے سامنے بیان دیے، بیانوں کے جو جواب حاصل کئے گئے معہ مہر دار الافتاء، منظر اسلام محلہ سوداگران، بریلی شریف و دستخط مہر نائب مفتی اعظم ہند اب ماہی گیر ان کی ٹولی اور چودھری ماہی گیران اس فتویٰ کو جو درج حوالہ حدیث ترمذی شریف ہے، اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ ساتھ ہی عبدالواحد مد عاعلیہ (شوہر ) نے بنام نتھیا کو اس کے گھر والوں اور عزیزوں کا حقہ پانی اور اپنی دوکان سے خرید و فروخت کرنا بند کر دیا ہے۔ اب ایسی صورت میں مفتیان دین مسئلہ سے آگاہ فرمائیں کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر ۔ فتویٰ کو نہ ماننے والا از روئے شرع کیسا ہے اور اس کے لئے حکم شرع کیا ہے ؟ میں کیا کرنا چاہئے؟ المستفتی: عبدالواحد محلہ مسجد پٹھانی سرائے پختہ ، پیلی بھیت
الجواب: صورت مسئولہ میں جبکہ شرعاً طلاق ثابت نہیں ہوئی تو عبدالواحد وغیرہ اس کے متعلقین کا حقہ پانی بند کرنا جائز نہیں۔ جن لوگوں نے عبد الواحد کومحض اس وجہ سے چھوڑ رکھا ہے کہ وہ نتھیا کو طلاق نہیں دے رہا ہے، انہوں نے غلط سمجھا ہے۔ اس معاملہ میں اس پر جبر نہیں ۔ لہذا یہاں بھی جبر نہ کیا گیا۔ بلکہ بہ نرمی کہا گیا تھا۔ ہاں نتھیا جب تین طلاقوں کی مدعیہ ہوئی تو اس پر ضرور لازم ہے کہ شوہر سے دور بھاگے ۔اسے اپنے اوپر قابو نہ دے اور اگر شوہر سے بھاگنے دور رہنے پر قادر نہیں تو خفیہ حلالہ کرالے۔عبدالواحد اگر اس حکم شرعی کی تعمیل میں حائل ہو گا تو ضرور مستحق ترک ہوگا۔ اور عبد الواحد کو نتھیا کی گلو خلاصی کر دینا چاہئے۔ اس کے لئے برادری والے یہ نرمی کہہ سکتے ہیں۔ اور فی الواقع وہ لوگ اگر فتویٰ کو نہیں مانتے تو بہت سخت گناہگار ہیں، تو بہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۹ ؍ر رمضان المبارک ۱۳۹۹ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی