ایک طلاق رجعی کا وقوع اور عدت کے دوران رجعت کا طریقہ کار
مسجد میں فجر کی اذان ہونے لگی۔ تب اذان کا واسطہ کہ تو مار۔ تب زید نے تین چار ہاتھ مارے جب زید باہر جانے لگا تو پھر عورت نے کہا کہ بغیر پوچھوائے نہیں جانے دیں گے تب زید نے کہا اگر وہ عورت کہہ دے گی کہ تو نے بھلا بُرا کہا تو تجھے طلاق دیدوں گا۔ اس پر زید کی بیوی نے کہا کہ میں خود طلاق لے لوں گی۔ اس پر زید نے کہا کہ تم کو طلاق، ایک دیدی۔ زید نے اس وقت غصہ میں ہی صرف ایک مرتبہ اپنی زبان سے طلاق دیدی، کہا ہے اور اس واقعہ کو ۲۴ / ایام گزر چکے ہیں۔ کیا شرع کی رو سے ایک طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ طلاق ہونے یا نہ ہونے کی اس شکل میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے ؟ منجانب: ارشاد حسین راوت پور قصبہ کانٹ ،شاہجہانپور
الجواب: اللہ تعالیٰ کو ہر غیب و شہادت کی خبر ہے اس سے کچھ چھپا نہیں ہے۔ واقعی اگر اس نے ایک مرتبہ طلاق دی، کہا ہو تو اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جبکہ پہلے دو نہ دے چکا ہو۔ رجعت کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا۔واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۴ ؍ ربیع الآخر ۱۳۹۸ھ فی الواقع صورت مسئولہ میں یہی حکم ہے اور اگر ایک مرتبہ سے زیادہ طلاق دی ہے، تو ظاہر کرے ورنہ جھوٹ بولنے سے حرام حلال نہ ہوجائیگا بلکہ جھوٹ بولنے کا و بال اور پڑے گا۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف