بغیر طلاق کے عورت کا دوسرا نکاح کرنا حرامِ قطعی ہے
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ہندہ کی شادی زید کے ساتھ ہوئی جس کو دو سال کا عرصہ ہوا اور زید سے دولڑ کی موجود ہے، مگر قریب قریب ۱۹۷۰ء کے سال سے ابھی تک لینے نہیں آیا اور نہ لے جانا چاہتا ہے جبکہ لوگوں نے بہت کہا زید سے زوجہ کو لیجانے کو تو زید نے اس پر جواب دیا کہ میں کسی حالت میں نہیں لیجاؤں گا اور لیجاؤں گا تو بیچ دوں گا۔ اس جملہ کی وجہ سے ہندہ بھی جانا نہیں چاہتی اور اس کے علاوہ ناجائز طریقہ سے پریشان بھی کرتا ہے اس وجہ سے ہندو ماری ماری پھرتی رہتی ہے کیونکہ میکہ اور دوسرے کی کوئی بھی کسی قسم کی مدد نہیں ہے اور انہیں ایام میں ہندہ کو جابجا پھرنے سے دو بچے بھی حرام کے ہوئے جن میں سے ایک لڑکا موجود بھی ہے جب زید سے مردوں نے کہا کہ جب ہندہ کو نہیں لے جاؤ گے تو طلاق دیدو۔ زید نے جواب دیا کہ میں زندگی بھر طلاق نہیں دوں گا۔ دیر عرصہ ہوا زید نے دوسری شادی بھی کر لی ہے اور اس سے بچے بھی موجود ہیں۔ لہذا زوجہ بھی نکاح کرنا چاہتی ہے مگر کوئی بھی صاحب علم بغیر طلاق کے نکاح پڑھاتا نہیں ہے اور کسی کی بات وہ مانتا نہیں ہے جیسا کہ اوپر درج ہو چکا اب ان سب گفتگو پر غور کرتے ہوئے شرع محمدی کی رو سے جواب دیں۔ المستفتی: محمد حافظه شاه عالم بریلوی
الجواب: زید سے جو صورت بنے طلاق لینے کی، کی جائے یہ فہمائش خواہ کچھ دے کر خواہ زبر دستی طلاق کہلوالیں پھر جب عدت گزر جائے ، جس سے نکاح جائز ہو، کر لے۔ بغیر طلاق کے دوسرا نکاح حرام قطعی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ