” میری بیوی کو طلاق لکھ دیجئے“ کے متعلق اپنے جواب پر سہو کا اظہار
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید اور ہندہ کا نکاح ہوا۔ ہندہ زید کے گھر قریب ۶،۵ سال آتی جاتی رہی۔ اس کے بعد زید و ہندہ کے مابین نا اتفاقی پیدا ہوگئی۔ اس پر زید نے عمرو سے کہا کہ میری بیوی کو طلاق لکھ دیجئے ۔ عمرو نے لکھنے سے انکار کر دیا۔ ایسی صورت میں طلاق واقع ہو گئی کہ نہیں ؟ اگر طلاق واقع ہوگئی تو کون سی واقع ہوئی ؟ اس کے بعد ہندہ کے میکے والوں نے قریب ۱۲ سال کا عرصہ گزر رہا ہے۔ زید کے گھر ہندہ کو رخصت نہیں کیا۔ اگر طلاق پڑ گئی ہے تو ہندہ کی عدت ختم ہوگئی یا فتویٰ دیکھنے کے بعد عدت گزارے؟ دوسرے سے نکاح کرے؟ جواب عنایت فرما کر عند الشرع ماجور ہوں ؟ فقط والسلام المستفتی : صراط اللہ موضع جگی ضلع گونڈہ (یوپی)
الجواب: صورت مسئولہ میں فی الواقع جبکہ عمرو نے طلاق نہ لکھی تو طلاق نہ ہوئی ۔ عمرو کو طلاق لکھنے کا حکم دینے سے پہلے زید نے اگر کوئی لفظ طلاق کے لئے بولا ہو تو لکھ کر معلوم کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله / ۴ صفر المظفر ۱۳۹۹ھ