حالت حمل میں طلاق کے وقوع کا شرعی حکم
ہندہ جو زید کی بیوی ہے، ان زوجین کے درمیان لڑائی ہوئی ، اسوقت جبکہ ہندہ کی ماں بھی زید کے گھر تھی ، خانہ جنگی اس انداز پر کہ زید نے بندہ کو مارا، ہندہ کی ماں نے غصے میں تاب نہ لا کر اس نے زید سے ہندہ کی طلاق کا بھی مطالبہ کئی بار کیا، جس پر زید نے غصہ میں آکر دو چار دفعہ اپنی زبان سے کہا: جاء، طلاق دی تم لے جاؤ۔ اس موقع پر یہ سن کر ہند و رورہی تھی اور حال یہ ہے کہ وہ حاملہ تھی۔ ہندہ مطلقہ ہوئی یا نہیں؟ اطمینان بخش جواب مرحمت فرما کر ممنون و کرم فرمائیں۔ محمد حنیف موضع کر تھوا، پوسٹ فقرا پور ضلع گونڈ (یوپی)
الجواب: حمل طلاق کے وقوع سے مانع نہیں ہے۔ حمل کی حالت میں طلاق ہو جاتی ہے۔ ہاں شوہر پر گناہ ہے کہ حمل میں طلاق دینا جائز نہیں۔ اگر فی الواقع اس نے تین طلاقیں دی ہوں تو عورت اس پر ایسی حرام ہے کہ اب بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم یہ صاف صاف لکھا جائے کہ یہ جملہ: ”جا، طلاق دی تم لے جاؤ کتنی بار کہا ہے۔ اگر تین بار کہا ہے تو عورت بے حلالہ اس کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۳ رصفر المظفر ۱۳۹۸ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، منظر اسلام،سوداگران، بریلی شریف