ایک طلاق رجعی واقع ہونے کی صورت میں رجعت کا شرعی طریقہ کار
زید نے اپنی بیوی کو بکر کے سامنے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دی، ہم اسے لے جاؤ۔ کچھ دن کے بعد لوگوں نے یہ بات اٹھائی کہ طلاق ہو گئی۔ زید پر شرعی پابندی لگائی جائے، زید کا قول ہے کہ میں نے صرف ایک بار کہا ہے۔ لوگوں نے اس عورت سے پوچھا کہ تیرے شوہر نے تجھے طلاق دی کہ نہیں؟ تو عورت نے کہا کہ واللہ میں نے نہیں سنا ہے۔ لہذا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں! المستفتي : رئیس الرحمن خطیب جامع مسجد ، منڈیا جا گیر، بریلی
الجواب: صورت مسئولہ میں ایک طلاق رجعی زید کی بیوی پر واقع ہوگئی۔ عدت کے اندرا سے رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گار مردوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور بیوی کو بتا دے کہ میں نے تجھ سے رجعت کر لی کذافی الہندیہ ۔ یہ حکم اس صورت میں ہیکہ پہلے دو طلاقیں نہ دی ہوں۔ ورنہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ محرم الحرام ۱۴۱۵ھ