طلاق رجعی، حیات عیسیٰ و خضر، دیوبندی عقائد، امداد مدارس اور تعزیہ داری کا حکم
مناتے ہیں یہاں تک کہ روپے پیسے خرچ کر کے تعزیہ بنواتے ہیں اور امام حسین کے نام پر تعزیہ کے سامنے فاتحہ کرتے ہیں اور اینٹ کا چبوتر ابنا کر گھر میں جو مرغا ، پلاؤ، شربت وغیرہ ہوتا ہے اس پر فاتحہ کرتے ہیں کیا یہ جائز ہے یا نا جائز ؟ اور اس تعزیہ بنانے میں روپیہ چندہ دینا جائز ہے یا نا جائز ؟ المستفتی: محمد اخلاق احمد رضوی، مدرسہ تعزیٹولی برونی ، پوسٹ برونی دھاری بیگوسرائے
الجواب: (1) دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ اگر پہلے ایک نہ دی ہو تو عدت میں رجعت ممکن ہے جسکا مسنون طریقہ یہ تھا کہ احمد دومشتقی مردوں کے سامنے کہہ دیتا کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور اپنی بیوی کو بھی رجعت کی خبر دیتا اور رجعت اس کے سوا فعل مثلا بوس و کنار و جماع سے بھی ہو جاتی ہے اگر چہ فعل سے رجعت کرنا خلاف سنت ہے اور سوال سے ظاہر کہ احمد نے اپنی منکوحہ سے بالفعل رجعت کر لی ہے، اسے چاہئے کہ زبانی طور پر بھی رجعت کا اعلان دو ثقہ مردوں کے سامنے کر دے اب احمد ایک طلاق کا مالک رہا جب کبھی دے دے گا بیوی اس پر ایسی حرام ہو جائیگی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) سید نا عیسی علی نبینا وسید نا خضر علیہما السلام زندہ ہیں، ابھی آپ نے دنیا سے پردہ نہیں فرمایا، فاتحہ کچھ خاص بہ اموات نہیں، زندوں کی بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایصال ثواب کا نام ہے اور ثواب بکرم الہی زندوں کو اور جو دنیا سے گزر گئے سب کو ملتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) وہ اقراری دیو بندی ہے اور دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسے کافر بے دین ہیں کہ جو انہیں دانستہ مسلمان جانے ، بلکہ ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر میں شک کرے، حسب فتویٰ علمائے حرمین وہ بھی کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین ۔ لہذا ان کے پیچھے نماز باطل محض اور دانستہ امام بنانا ایمان کو کھونا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) دینی مدرسہ کی امداد چرم قربانی سے جائز و کار ثواب ہے اور دیو بندی مدرسہ کو دینا حرام بد کام کفر انجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) مروجہ تعزیہ داری اور بیڑی پہنا شرعاً نا جائز وحرام ہے اور اس میں چندہ دینا بھی۔ اور تفصیل کے لئے رسالہ تعزیہ داری اعلیٰ حضرت کا ملاحظہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله