طلاق دے کر عدد بھول جانے کی صورت میں غالب گمان پر عمل کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید کا اپنی بیوی سے جھگڑا ہو رہا تھا، زید کے ساڑھو نے اسے سمجھایا اور ہٹایا تو زید نے کہا کہ: میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ جب ساڑھو نے پوچھا کہ تم نے کتنی بار طلاق دی؟ تو زید نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ میں نے دوبار کہا یا کتنی بار کہا، طلاق دی،طلاق دی۔ ایسی صورت میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ دھیان دو بار کا ہے اور بیوی کا بھی یہ کہنا ہے کہ میں دو بارسن کر بیہوش ہو گئی۔ المستفتی: لیاقت علی خاں، ساکن محلہ جھنڈا، پرانہ شہر، بریلی
الجواب: شوہر نے طلاق دی تو طلاق ہو گئی اب یہ طے کرنا اس کے ذمہ ہے کہ کتنی بار طلاق دی صحیح صحیح بتائے کہ کتنی بار طلاق دی ہے؟ بہانہ کرنے سے حرام حلال نہیں ہو سکتا اور اگر واقعہ یہ ہے کہ اسے یاد نہیں تو غالب گمان جس طرف ہو، اس پر عمل کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ محرم الحرام ۵۱۴۰۴