دھوکے سے انگوٹھا لگوا کر طلاق کا دعویٰ اور بغیر عدت نکاح کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: لڑکا اپنی بیوی کو بلانے کے لئے آیا، یہ آج کل کرتے رہے اور لڑ کی نہیں بھیجی۔ جب لڑکا آیا تو انہوں نے ایک جعلی تحریر مولانا سے لکھوائی اور اس پر جھوٹ سچ بول کر لڑ کے کا انگوٹھا نشان لے لیا اور اس پر اور بھی کچھ آدمیوں کے انگوٹھے لگوا لئے اور لڑکے سے کہہ دیا کہ بھاگ جا، ہم نے تجھ سے طلاق لے لی نہیں تو ہم تجھے مار کر دبا دیں گے۔ وہ ڈر کی وجہ سے چلا گیا اور اپنے گاؤں کے ہندو اور مسلمانوں کو لے کر آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم طلاق لے چکے ہیں، اب ہمارے گھر آنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اور لڑکی والوں نے ایک ہفتہ کے اندر ہی مولانا سے کہہ کر نکاح پڑھوایا اور مولانا کو یہ معلوم تھا کہ ابھی عدت کے دن پورے نہیں ہوئے ہیں اور پھر بھی نکاح پڑھا دیا۔ کچھ لوگوں کو معلوم ہوا کہ نکاح بغیر عدت کے پڑھایا ہے تو انہوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور انہوں نے اوروں سے بھی کہا تو انہوں نے بھی چھوڑ دیا۔ لگ بھگ آدھا گاؤں نماز جماعت سے پڑھتا ہے اور مولانا نے ہمارے گاؤں میں پارٹی بندی کر رکھی ہے اور جولوگ ناجائز کام کرتے ہیں وہ ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ اگر ہمارے یہاں یہ مولا نار ہے تو فتنہ کا اندیشہ ہے۔ بینوا توجروا لمستفتی: مبارک علی شاہ موضع نگر یا کلاں تحصیل وضلع بریلی
اگر اس شخص کو طلاق نامہ کا مضمون بتا کے اس سے نشان انگوٹھا لیا تو طلاق ہوگئی جبکہ نشان وغیرہ بے جبر و اکراہ شرعی کے ہوں اور اگر جبرانشان لے لیا یا اسے مضمون کی پہلے سے خبر نہ تھی تو طلاق نہ ہوئی، وہ بدستور اس کی زوجہ ہے اور دوسرا نکاح ہر صورت میں حرام قطعی ہوا۔ جو واقف حال اس نکاح میں شریک ہوئے ، سخت گنہ گار، حرام کا ر حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوئے اور شوہر کو اگر حال کا علم تھا جب تو اس سے ہوا ہی نہیں ورنہ فاسد اور بعد علم متارکہ وجدائی فرض اور تاخیر گناہ۔ امام جس نے جانتے ہوئے یہ نکاح پڑھایا سخت گنہگار، فاسق ، نالائق امامت ہے۔ جب تک تو بہ کے بعد اس کا صلاح حال ظاہر نہ ہو، اسے امام نہ بنائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله