بغیر طلاق کے نکاح ثانی کی ممانعت اور بیوی کے حقوق تلف کرنے کا حکم
بغیر طلاق دئے ہر گز عورت کا نکاح کسی اور سے نہ ہو گا ! ۱۴ / رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید کی بیوی عرصہ چار سال کا ہوا ، اپنے میکہ میں بیٹھی ہوئی ہے۔ اس عرصہ میں زید نے نہ ہی کوئی خرچ وغیرہ لڑکی کو دیا اور نہ ہی اس کو اپنے یہاں بلاتا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی رغبت رکھتا ہے بالکل تنہا ہے تولڑکی کا کہنا ہے کہ مجھے طلاق دے دو جس سے میں اپنا نکاح کسی اور سے کر سکوں۔ لہذا نہ ہی لڑکا یعنی زید طلاق دینے کو تیار ہےاور نہ اپنے پاس رکھنے کو تیار ہے اور زید سے لڑکی مقدمہ بھی لڑ چکی ہے جس میں لڑکی جیت گئی ہے۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس صورت میں لڑکی کیا کرے؟ اور زید کے لئے کیا حکم ہے؟ اور زید اس کو طلاق کیوں نہیں دیتا ہے؟ زید کے طلاق سے متعلق شرع شریف کا حکم کیا ہے؟ مفصل حکم سے آگاہ کیا جاوے۔ نوازش ہوگی ! المستفتی: غلام حسین بھینسوڑی ضلع رامپور
الجواب: زید سخت ظالم جفا کار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہے ، اس پر تو بہ لازم ہے اور اس پر فرض ہے کہ اپنی بیوی کو بھلائی کے ساتھ رکھے یا بھلائی کے ساتھ چھوڑ دے، ادہر میں لٹکانا سخت ایذا دہی ہے۔ اللہ سے ڈرے کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔ اس سے ہر ممکن تدبیر سے طلاق لی جائے ، خواہ سمجھانے بجھانے سے، مال کے بدلے میں، یا بے مال کے تحریر لے لیں ، خواہ حاکم وغیرہ کے دباؤ سے زبانی طلاق حاصل کریں، بغیر اس کے طلاق دئے ہرگز اس کا نکاح کسی اور سے نہ ہوگا، طلاق کے بعد عدت گزارے، پھر وہ مختار ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۱ محرم الحرام ۱۴۹۶ھ