شدید غصے اور جنون کی کیفیت میں تین طلاقیں دینے کا شرعی حکم
جنون کی حالت میں زوجہ کو تین بار طلاق ، طلاق ، طلاق کہہ دیا! محترم مجاہد ملت ، مفتی اعظم ہند (بریلی شریف ) ! سلام مسنون کیا فرماتا ہے اللہ تعالی قرآن عظیم میں، ایک شخص نہایت ہی سخت غصہ میں کبھی کبھی بہت زیادہ ہی غصہ ہو جاتا ہے، اس دیوانہ پن میں وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ کیا اور کیوں کہہ رہا ہے اور اس حالت میں اپنی شریک حیات سے جھگڑا کرتا ہے اور طلاق دینے کی دھمکی دیتا ہے۔ اسی طرح ایک بارجنون کی حالت میں وہ اپنی زوجہ کو تین بار طلاق ، طلاق ، طلاق کہ دیتا ہے لیکن اس جنون کے بعد جب وہ ہوش میں آیا تو لوگ اسے بتاتے ہیں کہ اس کی زوجہ نکاح سے باہر ہوگئی، اس وقت سے وہ عجب پریشانی کی حالت میں مبتلا ہے۔ کیا وہ ایسی حالت میں اپنی رفیق حیات کو اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ براہ کرم اس بارے میں تحریر کریں۔اس مسئلہ کو براہ کرم قرآن وحدیث کی روشنی میں فتوی دینے کی مہربانی فرمائیں۔ لمستفتی : فهیم خاں کیراف نزدیک منا الیکٹرک، اہالیا پلٹن سوبھاش مارگ، اندور
الجواب: معمولی قصہ مانع وقوع طلاق نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں جبکہ شوہر کی عقل محمل ہو جاتا تحقیق نہ ہو تین طلاقیں اس کی بیوی پر واقع ہوگئیں اور بیوی نکاح سے فوراً باہر ہوکر اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے صحیح النکاح شوہر سے جماع کے بعد طلاق لے کر عدت گزارے، پھر چاہے تو پہلے شوہر سے نکاح جدید بمہر جدید کر لے۔ ہاں اگر خوب تحقیق ہو کہ شوہر واقعی اس وقت مختل العقل و مجنون تھا تو طلاقیں اصلاً واقع نہ ہوئیں اور دوسری بات یہاں قابل لحاظ یہ ہے کہ صورت سوال میں طلاق کی اضافت بیوی کی طرف لفظاً نہیں ہے۔ مگر عرفاً اور دلالۂ اضافت ضرور موجود ہے، بنابریں طلاق کا حکم دیا گیا۔ البتہ اگر مجلس مذاکرہ طلاق کی نہ تھی تو اگر شوہر بہ قسم کہہ دے کہ میری نیت بیوی کو طلاق دینے کی نہ تھی تو بوجہ احتمال قبول کریں گے ۔ مفتی کا کام اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کاحکم ظاہر کرنا ہے اور اللہ جل و علا پھر اس کے رسول سے کسی کا ارادہ و عمل چھپا نہیں۔ جوصورت واقعہ ہو اس پر عمل کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی