غصہ میں "مجھ سے طلاق لے لے" کہنے سے وقوع طلاق کا حکم
کسی کو دو پیسے نہیں کھلاتا ہوں پھر بھی وہ اطمینان نہیں لائی اور پھر میں نے غصہ میں آکر کہا ”اگر پھر بھی اطمینان نہیں تو مجھ سے طلاق لے لئے اور اپنی ماں و بھائیوں کے پاس چل مگر اس نے کہا کہ میں طلاق نہیں چاہتی ہوں اس بات کو تین بار اقرار کیا اور میں اپنے بچوں کے پاس رہوں گی جس کا ایک لڑکا جوان بھی ہے پھر وہ اپنی مرضی پر اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی اور قریب ایک ماہ رہتی رہی اور پھر زید کے پاس آگئی پھر کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی اب سب ٹھیک رہتے ہیں اور چند آدمی زید سے کہتے ہیں کہ آپ کی طلاق ہو گئی اور آپ حرام کاری کر رہے ہیں اور کھانا پینا کر رکھا ہے اس مسئلہ کو مدنظر رکھتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں!
الجواب: صورت مسئولہ میں خط کشیدہ جملہ سے طلاق واقع نہ ہوئی۔ اگر اس کے سوا کوئی لفظ طلاق کے لئے نہ بولا تو زید کی بیوی بدستور اس کی بیوی ہے اسے محض اس جملہ کی بنا پر مطلقہ جاننا اور شوہر کوملزم گرداننا جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ شوال المکرم ۱۴۰۴ھ صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی