میں اس عورت کو نہیں رکھوں گا کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں کہ: زید نے اپنی بیوی کے بارے میں تعلقات ناخوشگوار ہونے کی وجہ سے کہا: ” میں اس عورت کو نہیں رکھوں گا، میں اس سے پریشان ہوں، میں اس عورت کو نہیں رکھوں گا، میں اسے نہیں رکھوں گا“۔ مندرجہ بالا کلمات زید نے تقریباً ۵-۶ چھوٹے لڑکے اور آدمیوں کے سامنے کہے۔ اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو کیسی ؟ زید اور اس کی بیوی کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور بستی والوں کو کیا کرنا
چاہئے؟ کیونکہ زید اور مذکورہ بیوی اب بھی ایک مکان میں بطریقہ زن و شو ہر رہتے ہیں۔ الجواب: سائلان : اہل بستی موضع سیسامگن پور پرگنہ فرید پور ضلع بریلی شریف ۱۹ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ مذکورہ بالا الفاظ سے طلاق واقع نہ ہوئی۔ اس کے علاوہ اور کوئی لفظ کہا ہو تو دوبارہ سوال کر کے معلوم کیا جائے ۔ اور چھپانے سے فائدہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہر غیب و شہادت کی خبر ہے۔ اس سے کچھ چھپا نہیں اور حکم اس کا ہے۔ مفتی کا کام اظہار حکم شرع ہے وبس ۔ چھپانے سے حکم خدا نہ بدلے گا، وبال بڑھے گا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله