طلاق مغلظہ کے بعد جماع حرام!
سوال
۲۱ محرم الحرام ۱۳۹۸ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید نے ہندہ کو طلاق مغلظہ دی، دوران عدت میں زید نے اپنی مطلقہ سے جماع کیا۔ اس سے ہندہ کو حمل قرار ہو گیا۔ اب ہندہ کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی ہے اور ہندہ اپنے پہلے شوہر کی طرف لوٹنا چاہتی ہے۔ لہذا ہندہ بغیر حلالہ کے لوٹ سکتی ہے یا نہیں؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: صورت مسئولہ میں جماع حرام بد کام بدانجام، زید و ہندہ دونوں حرام میں مبتلا ہوئے۔ دونوں پر تو بہ لازم ہے۔ زید نے جبکہ ہندہ کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو اسے ہندہ بغیر حلالہ کے حلال نہیں ۔ حلالہ یہ ہے کہ عدت گزار کر عورت کسی دوسرے سے نکاح صحیح کرے، وہ بعد جماع طلاق دے دے پھر عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۷ · صفحہ ۱۸۹–۱۹۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
میں اس عورت کو نہیں رکھوں گا کہنے سے طلاق واقع ہونے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھاؤں تو تمہیں تین طلاق ہے، کہنے کے بعد کیا صورت اپنائی جائے؟
باب: کتاب الطلاق
تین طلاقوں کے بعد رجوع اور حلالہ کی شرعی حیثیت اور حاملہ کے مہر سے متعلق سوال
باب: کتاب الطلاق
بیوی کو چپ نہ رہنے پر طلاق کی دھمکی اور پھر دو بار لفظ طلاق کہنے کا حکم
باب: کتاب الطلاق
زید کی طرف سے تین بار لفظ 'دیتا ہوں' کے ساتھ طلاق کا حکم اور صیغہ حال پر بحث
باب: کتاب الطلاق