خاوند کی طرف سے نان ونفقہ کی بندش اور طلاق نہ دینے کی صورت میں خلع کا مسئلہ
مسئله - ۳۹۶ خاوند ضد کرتا ہے، کسی کی بھی نہیں مانتا، نہ خرچ دیتا ہے نہ لڑکی کو اپنے پاس رکھنے پر رضامند ہے اور نہ طلاق دیتا ہے تو عورت کیا کرے؟ عالی جناب قبلہ حضرت مولانا صاحب ! السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں فتویٰ تحریر کریں ! زید اور اس کی بیوی کے تعلقات بے حد خراب ہونے کی وجہ سے لڑکی اپنے والدین کے گھر آچکی ہے۔ سال سوا سال کا لڑکا بھی ہمراہ ہے۔ سسرال میں لڑکی کا کسی ایک سے بھی نباہ نہیں ہورہا ہے۔ لڑکی چاہتی ہے کہ خاوند طلاق دے۔ خاوند ضد کرتا ہے، کسی کی بھی نہیں مانتا، نہ خرچ دیتا ہے نہ لڑکی کو اپنے پاس رکھنے ؟ رضامند ہے اور نہ طلاق دیتا ہے مطلب اس سے ظاہر ہے کہ وہ پریشان کرنا چاہتا ہے آخرلڑ کی تنگ آچکی ہے وہ شریعت کے قانون سے خلع لینا چاہتی ہے وہ بخوشی اپنا مہر اور دیگر سامان اور کچھ نقد روپیہ تقریباً دس ہزار کی لاگت ہوتی ہے وہ سب بھی چھوڑ دینے کو تیار ہے خاوند نے ابھی ابھی دوسرا نکاح بھی کر لیا ہے۔ لہذا گزارش ہے کر تفصیل والا جوا تحریر کریں تا کہ کچہری میں یا پیچ میں بضرورت پیش کیا جائے۔ فقط والسلام المستفتی: ایم۔اے۔ رزاق ۲۶۸۲/ ۳۳۵، موتی لعل نگر نمبر ۲ ، گورے گاؤں ممبئی -۶۰۰۰۹۵
الجواب: شوہر سے جس صورت بنے ، طلاق لیں۔ خواہ کچھ دے کر خواہ اسے حاکم یا اہل اثر کے ذریعہ دبا کر ، ڈرا دھمکا کر اس سے زبانی طلاق کہلوالیں۔ بغیر طلاق وانقضائے عدت دوسرے سے نکاح حرام قطعی ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم شب ۱۴ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی