عقل طلاق کے وقت تحمل تھی تو حکم طلاق نہ ہوگا !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں جو کہ زیر غور ہے کہ : زید پنجوقتہ نمازی ہے صحیح سنی العقیدہ سنی ہے۔ کچھ عرصہ سے زید کی سسرال میں آپسی تنازعات کے باعث کچھ نفرت پیدا ہوگئی۔ چند ایام پہلے زیدا اپنی بیوی کو سسرال بلانے کے لئے گیا۔ زید کے سسرال والوں نے بغیر عذر شرعی زید کو مارا پیٹا خرافاتی باتوں سے اور نادانی سے پیش آئے۔ زید سسرال سے بے عزت ہو کر واپس اپنے گھر چلا آیا۔ سسرال سے زید کا مکان کم از کم ایک ہزار گز کے فاصلہ پر ہے۔ زید اپنے مکان پر آکر ضبط سے باہر ہو گیا اور کچھ لوگوں کی زبان سے شنیدہ معلوم شود که زید کی زبان سے اسطرح کے الفاظ کئی بار ادا ہوئے ۔ طلاق طلاق اور انہیں الفاظ کو کچھ لوگ اس طرح بیان کرتے ہیں جو کہ مخصوص پنجوقتہ نمازی بھی نہیں ہیں وہ لوگ بیان کرتے ہیں کہ زید نے اپنے سر کا نام لے کر کہا کہ فلاں کی لڑکی کو طلاق ۔ زید کو اس کے متعلق کچھ خبر نہیں کہ میں نے کچھ کہا یا نہیں کہا ، بعدہ زید نے اپنے آپ پر قابو نہ پا کر اپنے سر کو اینٹوں پتھروں سے پیٹا پھر زید کی طبیعت علیل ہوگئی، زید کی عقل جاتی رہی ۔ لہذا شریعت مطہرہ میں ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے زید کی بیوی پر کیا طلاق
الجواب:فی الواقع اگر زید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو اس کی بیوی اس پر ایسی حرام ہوگئی کہ جب تک دوسرے جائز شوہر سے جماع ہو کر اس سے طلاق کے بعد عدت نہ گزارے، زید کو اس سے نکاح حرام ہے۔ مگر طلاق کا ثبوت دومرد یا ایک مرد و دو عورت عدول کی شہادت شرعیہ پر موقوف ہے۔ لہذا جب تک شہادت شرعیہ اس امر پر کہ زید نے تین طلاقیں دی ہیں، نہ گزرے، طلاقیں ثابت نہ ہوں گی ۔ اور معمولی غصہ جس سے عقل مختل نہ ہو، وقوع طلاق سے مانع نہیں اور بیان مذکور سے طلاق دیتے وقت عقل کا مختل ہو نا معلوم نہیں ہوتا بلکہ بعد طلاق کچھ حرکات غیر معتدلہ کا ظہور معلوم ہوتا ہے۔ لہذا اس بیان کے بموجب زید نے اگر فی نفس الامر طلاقیں دیں تو واقع ہو گئیں ۔ ہاں اگر خوب تحقیق ہو کہ زید کی عقل طلاق کے وقت مختل تھی تو حکم طلاق نہ ہوگا اور زید سے جو لوگ بلا وجہ مار پیٹ وغیرہ بدسلوکی سے پیش آئے ہوں سخت ظالم جفا کارحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہیں۔ ان پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۰ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ