بیٹے کی مدد کرنے پر دی گئی معلق طلاق اور اس سے بچنے کا شرعی طریقہ
زید کا ایک لڑکا جو کہ بالغ ہے، اس کی ماں نے اس کی نابالغی کے زمانے سے آج تک اس کی غلط کاریوں کو گاہے گاہے چھپایا اور غلط عمل ہو جانے کے بعد ہی باپ کو بتایا، اس کے باوجود بھی لڑکے کی ماں اس کی مدد کرتی رہی ، کئی دفعہ زید نے اپنی بیوی کو اس بارے میں اخلاقا سمجھایا بھی کہ وہ اس کی غلطیوں کو نہ چھپائے وہ لڑ کا جب حد سے زیادہ غلط کاریوں میں پڑ گیا، زید نے اپنے لڑکے کو گھر سے نکال دیا اور لڑکے کو سدھارنے کی وجہ سے اور ہدایت پہونچنے کی وجہ سے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ اگر تو نے اپنے لڑکے کی محبت میں کوئی آنسون کالا یا کوئی اس کو پیسہ دیا یا اس کو کوئی کپڑا گھر سے دیا یا میری غیر موجودگی میں گھر میں گھسایا تو میری طرف سے تجھ کو طلاق ، طلاق ، طلاق ہے۔ یہ الفاظ الر کے کو ماں کی ہمدردی نہ پہونچنے کے لئے کہے گئے ، جب زید کولوگوں نے بتایا کہ اوپر لکھی ہوئی شرطوں میں سے کوئی شرط ٹوٹ گئی اور تمہاری بیوی ان شرطوں میں سے کسی بھی ایک شرط کو نہ نبھا پائی تو طلاق واقع ہو جائے گی اس لئے ان شرطوں کو تم جلد سے جلد واپس لے لو، زید نے وہ شرطیں تین چار مسلمانوں کی موجودگی میں واپس لے لیں اور تین مرتبہ تو بہ کر لی۔ لہذا دریافت طلب یہ امر ہے کہ زید کی بیوی ہمیشہ کے لئے اس بندھن سے آزاد ہوگئی یا نہیں؟ یا اب بھی اگر ان میں سے کوئی شرط پائی گئی جبکہ اس کو ہر شرط سے آزاد کر دیا گیا ہے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟ اگر اس صورت میں طلاق واقع ہوتی ہے تو کوئی ایسا حیلہ بیان فرمایا جائے جس سے طلاق واقع ہونے کے بعد بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح ہو سکے۔ فقط ۔ بینوا توجروا
الجواب: از : قصب شیش گڑھ ضلع بریلی، یوپی مذکورہ باتوں میں سے جب کوئی بات پائی جائے گی، ضرور تین طلاقیں واقع ہونگی ۔ چارہ کار یہ ہے کہ شوہر ایک طلاق دے کر چھوڑ دے، اور عدت گزرنے دے۔ جب عدت گزرجائے ، عورت ان امور میں سے کوئی انجام دے، یا سب کر دے پھر شوہر نکاح جدید بہ مہر جدید کر لے ۔ مگر اس صورت میں جبکہ ان امور میں سے عورت کوئی ایک کرے ، ضرور ہے کہ باقی امور میں ہر ایک سے احتراز شدید کرے اور نہ تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۷ر محرم الحرام ۱۴۰۱ھ یہ تمام امور کو بعد عدت لڑکے کے ساتھ کرلے تاکہ ان تمام شرائط سے بچ جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بہاء المصطفیٰ قادری