بیوی کا مخاطب ہونا طلاق واقع ہونے کے لئے ضروری نہیں !
زید نے بکر سے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں، آپ طلاق نامہ لکھیں، بکر نے طلاق نامہ لکھا اور زید کی بیوی نے کھلے لفظوں میں کہا کہ میں طلاق لیتی ہوں اور خوشی بخوشی مہر معاف کر دیا۔ اور زید کی بیوی نے طلاق نامے پر دستخط بھی کیا ہے کہ میں نے طلاق لے لی۔ اور گواہوں نے طلاق نامے پر دستخط کئے ہیں کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ لیکن زید نے اپنی بیوی سے مخاطب ہو کر نہیں کہا ہے کہ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ لیکن بکر نے جو طلاق نامہ لکھا ہے وہ زید کی رائے پر لکھا ہے اور زید نے بکر کے لکھنے پر لبیک کہا ہے۔ ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ فقط والسلام
الجواب: بیوی کا مخاطب ہونا طلاق واقع ہونے کے لئے ضروری نہیں ، بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کافی ہے، وہ خواہ کسی طرح سے ہو۔ لہذا طلاق نامے میں جیسی اور جتنی طلاقیں درج ہوں، ویسی اور اتنی طلاقیں واقع ہو گئیں ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ور جمادی الاولی ۱۴۰۱ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی