ایک طلاق کی عدت گزرنے کے بعد دوسرے سے نکاح کا حکم !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ ایک گھنٹہ کے بعد جب لڑکی کے والدین کو معلوم ہوا کہ لڑکی کو گھر سے نکال دیا ہے اور طلاق بھی دے دی ہے تو والدین اس کے گھر گئے تو داماد کو اور لڑکی کو از حد سمجھایا لیکن داما دور کی کوکسی طرح رکھنے پر آمادہ نہیں ہوا اور داماد نے لڑکی کی ماں اور باپ سے کہا کہ میں طلاق دے چکا ہوں اور اب تمہارے روبرو بھی طلاق دے رہا ہوں۔ لہذا داماد نے تین یا چار بار طلاق کا جملہ استعمال کیا اور یہ کہا کہ تم لڑکی کو گھر لے جاؤ۔ والدین اس لڑکی کو گھر لے گئے ۔ اور جب آٹھ مہینہ کا عرصہ گزر گیا تولڑکی کا نکاح کر دیا۔ اس لئے کہ والدین بہت غریب آدمی ہیں۔ بہت جانفشانی سے گزراوقات ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جو نکاح ہو چکا ہے وہ درست ہے یا نہیں ؟ حکم صادر فرما یا جاوے۔ وٹے ہی بیان والدین لڑی کے پیش ما مسجد مومن پور بنام میں الیدین کے رد رد ہوئے ہیں۔ مستفتی: محمد جان بیگ موضع دیور یا تھا نہ خاص تحصیل بیری ضلع بر ملی
الجواب: اگر عدت کے گزرنے کے بعد یہ نکاح ہوا تو درست ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۰/ذوالحجہ ۱۴۰۱ھ