عدت کے اندر طلاق رجعی سے رجوع کا طریقہ اور بعد عدت نکاح جدید کا حکم
ایک یا دو طلاق صریح الفاظ سے دیدے تو عورت سے عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے! عرض گزارش یہ ہے کہ مجھے مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور سے یہ فتوی ملا ہے کہ اگر شوہر عدت کے اندر اندر یہ کہہ دے کہ میں اپنی بیوی کو بدستور نکاح میں رکھتا ہوں تو بیوی بدستور اس کے نکاح میں رہے گی لیکن اگر عدت کی مدت ختم ہو جائے تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے ؟ اس کا آپ مجھے فتویٰ دیجئے ۔ امستفتی: ظفر خاں بار حال والا کیراف
الجواب: آشا پورا ٹریڈ نگ کمیٹی مقام رائیلی ، چین کمپاؤنڈ پوسٹ وضلع آکولہ یہ فتوی کسی سوال کا جواب ہے ۔ سائل نے سوال کی نقل نہ بھیجی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر مرد ایک یا دو طلاق صریح الفاظ سے دے دے تو عورت سے عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے اور رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو مرد نمازی کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں واپس لیا۔ اور اگر عدت کے اندر رجعت نہ کر سکا تو بعد عدت عورت کی رضامندی سے مہر جدید کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتا ہے۔ دوبارہ سوال لکھ کر بھیجیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (نوٹ): وہابیوں سے سوال لکھ کر جواب حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔ اس سے تو بہ لازم ہے! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۶ ؍ ربیع الاول ۱۴۰۵ھ