سسر کے سامنے بار بار طلاق کے الفاظ کہنے کا حکم اور اس کے نتیجے میں مغلظہ طلاق کا وقوع
جناب عالی ! السلام علیکم خدمت اقدس میں عرض یہ ہے کہ داماد اور سسر اور سالوں میں جھگڑا ہوا اور مار پیٹ ہوئی۔سسر کے مکان کے باہر داماد دوسرے والے مکان پر چڑھ گیا اور اوپر سے چلا چلا کر بولتا رہا کہ میں نے تیری لڑکی کو طلاق دی اور طلاق کا لفظ کئی مرتبہ کہا۔ لڑکی موجود نہیں تھی اور قریب اس واقعہ کو ڈیڑھ سال گزر گیا۔ اب میاں بیوی رضا مند ہیں۔ ایک ہونے کے لئے اب آپ جواب دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی ؟ اور کس طرح یکجا ہو سکتے ہیں ؟ فقط والسلام المستفتی: محمد یا مین ولد حبیب الله شیخ قریشی ، ساکن سری محله گوری ضلع مراد آباد (یوپی)
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ داماد نے کئی بار طلاق کا لفظ بولا تو تین طلاقیں اس کی بیوی پر واقع ہو گئیں اور بیوی نکاح سے فوراً باہر اور اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی اور جب تک کہ بعد عدت دوسرے جائز شوہر سے جماع ہو کر بعد طلاق عدت نہ گزر جائے پہلا شو ہرا اپنی بیوی سے نکاح نہیں کرسکتا۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۴ ؍ ربیع الآخر ۱۴۰۳ھ