نابالغ کی طلاق کا حکم اور گوبر کے اہلے و گیس کے استعمال کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ذیل کے مسئلہ میں کہ: (۱) زید کی شادی ہندہ کے ساتھ ہوئی ، نابالغیت میں۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد زید و ہندہ کے والدین میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں کہ رشتہ منقطع ہو جائے اس بات پر دونوں تیار ہوئے یعنی زید و ہندہ کے والد ۔ لیکن لڑکا ابھی نا بالغ ہے اور لڑکی بالغ ہے تو ایسی صورت میں کیا لڑکی کو اختیار ہے کہ نکاح فسخ کر دے؟ اور اگر نہیں کر سکتی تو لڑ کی کب تک انتظار کرے۔ حالانکہ زید خود تیار ہے کہ طلاق لے لو۔ تو کیا ایسی صورت میں زید سے طلاق لی جاسکتی ہے؟ (۲) گوبر کے اہلے سے کھانا پکانا کیسا ہے؟ (۳) ہمارے یہاں اکثر لوگ گو برگیس پلاننگ کے ذریعہ کھانا پکاتے ہیں، بتیاں جلاتے ہیں تو کیا از روئے شرع کھانا پکانا، بتیاں جلانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا المستفتی: محمدمحسن محمود پور، پوسٹ سعداللہ نگر ضلع گونڈہ
الجواب: (1) نہیں۔ کہ نابالغ کی طلاق واقع نہیں ہوتی اور نکاح اگر والد ہندہ نے کیا تو ہندہ کو خیار بلوغ نہیں۔ اب بعد بلوغ زید بے طلاق کوئی سبیل نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۱۰؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف