ہجڑے سے تعلق ختم نہ کرنے کی شرط پر تین طلاق کے وقوع کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: شادی کے بعد معلوم ہوا کہ زید کا ہجڑے سے تعلق ہے جسکی وجہ سے ہندہ اور ہندہ کے والد کو ناگوار ہے۔ ہندہ زید کے یہاں جانا نہیں چاہتی ہے۔ شادی کو ہوئے ۲ سال ہو گئے ۔اس دوران میں زید کے والد آئے اور یہ بات رکھی گئی کہ زید ہجڑے سے تعلق ختم کر دے اور وہ ہجڑے سے تعلق ختم نہیں کرے گا تو تین طلاق ہیں۔ زید اس بات پر راضی ہو گیا جس کی مدت ایک ماہ کی دی گئی تھی۔ اس کے بعد زید کے گھر سے کوئی نہیں آیا۔ چار ماہ کے بعد زید کے والد آئے اور وہ اس بات پر راضی نہیں ہوئے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہجڑہ زید کے گھر پر رہتا ہے تو ایسی حالت میں ہندہ کیسے طلاق لے کر آزاد ہو؟ اگر کوئی طریقہ ہو تو مطلع فرمائیں! المستفتی: عبدالجبار، موضع به کاری پور ضلع پیلی بھیت
الجواب: فی الواقع اگر زید یہ اقرار کر چکا ہے کہ اگروہ ہیجڑے سے تعلق ختم نہ کرے تو اس کی بیوی پر تین طلاق ، پھر اس کا تعلق ہجڑے سے معلوم ہوا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۱۸؍ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ