باپ اور بھائی کو بلانے کی معلق شرط اور وقوع طلاق کا مسئلہ
و تم اپنے باپ اور بھائی کو آج سے کل تک بلواؤ نہیں تو تینوں طلاق وقت پر بلوایا مگر وقت پر نہ آئے تو کیا حکم ہے ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے بارہ بجے دن میں اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ تم اپنے باپ اور بھائی کو آج سے کل تک ہلواؤ نہیں تو تینوں طلاق۔ ہندہ کے باپ کا مکان زید کے گھر سے چھ میل کی دوری پر ہے۔ ہندہ نے اس دن ۲ بجے دن میں ایک آدمی کو اپنے باپ بھائی کو بلانے کے لئے بھیج دیا۔ اس آدمی نے لڑکی کے باپ سے اسی دن زید کی کہی ہوئی بات جا کر کہا۔ اس خبر کوسن کر ایک شخص نے ہندہ کے باپ اور بھائی سے کہا کہ آپ لوگ جلد جائے تا کہ طلاق رُک جائے۔ لیکن ہندہ کے باپ اور بھائی نے ٹال مٹول کر دیا اور شرط معلق کی مدت میں زید کے یہاں نہیں گئے۔ بعد میں جا کر اپنی لڑکی ہندہ کو اپنے گھر لے آیا۔ بکر کہتا ہے کہ چونکہ ہندو شرط کے مطابق باپ بھائی کو بلانے کے لئے آدمی بھیج دیا۔ باپ بھائی کے آنے نہ آنے کی ذمہ داری ہندہ کے سر سے اتر گئی یعنی اس نے اپنی شرط کو پوری کر دی۔ لہذا طلاق واقع نہ ہوگی ۔ حکم شریعت کیا ہے؟ طلاق ہوئی یا نہیں؟ ہندہ حاملہ بھی ہے۔ جواب بحوالہ کتب عنایت فرمایا جائے ۔ فقط المستفتی: محمد رشید محلہ مکرمدی چوک میمنی پوسٹ سوجا ضلع بھاگلپور (بہار)
الجواب طلاقیں نہ ہو ئیں کہ نہ بلانے کی شرط نہ پائی گئی۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۶ / جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ