شوہر کا اپنی بیوی کے بارے میں 'میں اس کو طلاق دیتا ہوں' کہنا اور تحریر کروانا
میں اس کو طلاق دیتا ہوں میرے کو ضرورت نہیں ہے، دو بار کہا تو ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ: ایک آدمی بہادر منصوری نے اپنی لڑکی بنام بسم اللہ بانو کی شادی جمال الدین ابن نانو جی منصوری ساکن آرنی کے ساتھ تقریباً آٹھ سال پہلے کی ۔ لڑکی کی عمر اس وقت تقریباً ۱۲ - ۱۳ ارسال تھی اور لڑکے کی عمر ۱۳ - ۱۴ سال تھی ، لڑکی دو سال سے آنے جانے لگی لڑکا غائب تھا تو بھی لڑکی کے والد بہادر جی یعنی لڑکی کے باپ نے روکا نہیں لڑکا جمال الدین اپنی عورت بسم اللہ بانو کو خود لینے آیا تولڑکی کے والدین نے خوشی سے روانہ کر دی لڑکا لڑکی کو تقریباً ۱۰ - ۱۲ میل دور لے جا کر راستہ میں مارنا پیٹنا شروع کر دیا کہ میرے کو تیری ضرورت نہیں ہے تو میرے ساتھ کیوں آگئی مارنے پیٹنے پر لڑ کی چلائی آدمی راہ گیر دوڑے اور لڑکی کو چھڑایا۔ اور قریب قصبہ سانکی کی پنچایت میں پیش کر دیا۔ لڑکی سے پوچھا تیرا قریبی رشتہ دار ہو تو بتا۔ لڑکی نے اپنے بہنوئی ساکن پہونا قصبہ جو قریب تھا، نام امام الدین بتایا تو پنچایت کا چپراسی جا کر لڑکی کے بہنوئی امام الدین کو لایا، امام الدین نے پوچھا تو مار پیٹ کیوں کرتا ہے تولڑ کی بسم اللہ کے شوہر جمال الدین نے جواب تقریباً ۲۲ سال کا ہے کہا میں اس کو طلاق دیتا ہوں میرے کو ضرورت نہیں ہے یہ کہہ کر اس نے کہا میری طرف سے اس کو طلاق ہے مگر تم اس کو طلاق نامہ تحریر کر دو، لڑکی کا بہنوئی امام الدین منصوری کہتا ہے طلاق میرے سامنے منشی پنچایت نے تحریر کیا اس طلاق نامہ کو میں امام الدین نے پڑھا۔
الجواب: صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہو گئیں طلاقنامہ میں اگر انہیں زبانی طلاقوں کی خبر ہو تو وہی دور جعی رہیں عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو پر ہیز گاروں کے سامنے شوہر کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے اپنے نکاح میں لیا اور اگر اس طلاقنامہ میں مزید طلاقیں لکھیں تو تین طلاقیں ہو گئیں ۔ اب رجعت نہیں ہوسکتی ۔ بعد عدت عورت کو دوسرے سے نکاح حلال ہوگا ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله شب ۲۰ جمادی الاولی ۱۴۰۲ھ