حالت اکراہ میں تحریری طلاق کا حکم !
ما قولكم مظلكم ایھا العلماء والفضلاء اندرمیں مسئلہ: زید ایک مرد ہے اور ہندہ ایک عورت ہے۔ زید کا عقد تقریبا تین سال ہوئے ہندہ کے ساتھ ہوا تھا اور ہندہ زید کے گھر آتی جاتی تھی قریب آٹھ ماہ ہوئے۔ ہندہ کو اس کے وارثان میکہ رخصت کرالائے تھے اس کے بعد بھیجنے میں حیلہ حوالہ کرنے لگے اور انکار کیا قریب دو ڈھائی ماہ ہوئے کہ زید مع چار پانچ آدمیوں کے ہندہ کو رخصت کرانے اس کے میکے گیا تھا تو ہندہ کے والدین آمادہ فوجداری ہو کر مارنے سیٹنے پر تیار ہو گئے اور گھیر لیا اور دھمکی دے کر ایک کاغذ پر زید سے جبرا انگوٹھا لگوالیا۔ زید نے زبان سے طلاق نہیں دی۔ اب ہندہ کے والدین اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگی ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ طلاق نہیں ہوئی ہے۔ شرع شریف سے کیا حکم ہے ایسی صورت میں طلاق ہونا چاہئے یا نہیں؟ اور ہندہ زید کی منکوحہ عورت ہوکر زید کے ساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں؟ جواب عنایت فرمائیں!
الجواب: فی الواقع اگر یہ واقعہ ہے جو تحریر ہوا تو یہ صورت جبر وا کراہ شرعی کی ہے۔ اس صورت میں حکم یہ ہے کہ اس طلاق نامہ میں تحریر شدہ طلاق واقع نہ ہوئی۔ لہذا وہ عورت اس مرد کی بیوی ہے جبکہ زبان سے طلاق مغلظہ نہ دی ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ ؍ رجب المرجب ۱۴۰۶ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم/ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی