طلاق کے اقرار کے بعد عورت کے عقد ثانی اور ثبوت طلاق کا حکم
پھر دوسرے دن ہندہ کے پاس آکر اور خوشامد کر کے اور پھر یہ کہہ کر کہ میں نے دل سے طلاق نہیں دی۔ ہندہ کو اپنے گھر لے گیا۔ چونکہ ہندہ کے بچوں کو بھی زید نے روک لیا تھا اور ہندہ کے والدین کا بھی انتقال ہو چکا ہے وہ بے کس اور بے سہارا ہونے کی وجہ سے زید کے ساتھ پھر چلی گئی۔ جب لوگوں نے زید سے کہا کہ تو نے طلاق دے کر پھر ہندہ کو اپنے گھر میں بیوی بنا کر رکھ لیا۔ اس پر زید نے لوگوں سے کہنا شروع کر دیا کہ میں نے تو اپنے بچوں کی پرورش کے لئے ہندہ کو رنڈی سمجھ کر اپنے گھر میں رکھ لیا ہے۔ ان باتوں کوسن کر ہندہ کی غیرت نے جب ہندہ کولکارا تو ہندہ بجز پہنے ہوئے کپڑوں کے جو وہ اس وقت پہنے تھی اور اس کے علاوہ بغیر کوئی سامان جہیز وزیور کپڑا لئے زید کے مکان سے چلی گئی اور نہایت کسم پرسی کے عالم میں اپنی عدت کے دن پورے کر کے اور بمشکل تمام اپنی زندگی گزار کر جب ہندہ نے عقد ثانی کر لیا تو کچھ لوگ ہندہ کے شوہر ثانی سے کسی رنجش کی بنا پر انتقام لینے کی غرض سے ہندہ کے پہلے شوہر زید کو اپنے دام فریب میں لے کر ہندہ اور اُس کے شوہر ثانی کو یہ کہ کر نقصان پہنچانا چاہتے ہیں کہ ہندہ کے پاس کوئی شرعی اور قانونی ثبوت نہیں ہے ایسی صورت میں ہندہ کو جو زید نے طلاق دی، وہ طلاق شرعی تھی یا نہیں؟ اور ہندہ نے جو عقد ثانی مندرجہ بالا حالات کے پیش نظر کیا وہ جائز ہے یا نہیں؟ جوابات سے مطلع فرمانے کی زحمت فرمائیں؟ المستفتی : عزیز احمد خاں ولد نظر خاں، ساکن محله بازارصندل خاں، بریلی شریف (یوپی)
الجواب: طلاق کا ثبوت اقرار شوہر یا شہادت شرعیہ پر ہے۔ لہذا شوہر نے اگر اقرار طلاق، گواہان شرعی کے رو برو کیا ہے یا جن لوگوں کے سامنے اقرار کیا ہے وہ اس قدر زیادہ ہیں کہ عقل اُن سب کا جھوٹ پر متفق ہونا محال جانے تو ان لوگوں کے بیان سے اور بر تقدیر اول گواہان عدول کی شہادت شرعیہ سے طلاقیں ثابت اور نکاح ثانی کے صحیح ہونے کا حکم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۲ ؍رجب المرجب ۱۴۰۶ھ صح الجواب ! جواب مسئلہ ہذا یہی ہے مگر اس واقعہ سے متعلق کئی سوال دار الافتاء میں آچکے ہیں ۔ اور بے اظہار صورت جواب طلب کیا گیا ہے۔ اور اولاً یہ طریقہ غلط ہے۔ پھر سوالوں کے اختلاف میں صورت واقعہ کی صحیح صورت متعین نہیں ہوتی ہے اس لئے جب تک دونوں فریق آمنے سامنے نہ ہوں اور دونوں جانب کے بیانات نہ سنے جائیں، کوئی قطعی فیصلہ یا جواب نہیں ہوسکتا ہے۔ فقط قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی