انجانے میں نشہ کرنے کے عذر اور حالت نشہ میں دی گئی طلاق کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : زید کو انجانے میں کسی شخص نے نشہ کرا دیا۔ زید کو راستہ میں کافی نشہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ زید اپنے گھر میں جانے کے بجائے دوسرے کے گھر میں چلا گیا اور وہاں جا کر زید نے نشہ کی حالت میں اپنی بیوی کو دو بار طلاق دے دی جب کہ بیوی اپنے گھر میں موجود تھی اور بیوی نے سنا بھی نہیں ۔ زید کی بیوی حاملہ ہے ۔ زید جس گھر میں گیا تھا اسی گھر کے افراد نے طلاق کو سنا تھا۔ ایسی حالت میں اہل محلہ کو اعتراض ہے۔ لمستفتی : چمن خال ، ولد چھٹن خاں ساکن موضع پنڈاری، قصبہ ستار گنج ضلع نینی تال
انجانے میں نشہ کر دینے کا عذر معقول نہیں، کوئی مجنون فائت العقل ہی ہوگا جو نشہ والی چیز کی تمیز نہ رکھے گا۔ بہ ظاہر یہ عذر وفع طلاق کے لئے سامنہ ہے۔ اللہ تعالی علیم و خبیر ہے اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ۔ اگر فی الواقع دو بار طلاق لفظ صریح سے دی ہے تو دو طلاق رجعی ہو گئیں ۔ عدت میں رجعت ہوسکتی ہے جس کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی، اسے اپنے نکاح میں لیا۔ یہ جب ہے کہ پہلے ایک طلاق نہ دی ہو ورنہ حلالہ کے بغیر شوہر کے لئے حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم الفاظ طلاق دوبارہ تحریر کر کے سوال کیا جائے ! فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ / رجب المرجب ۱۳۹۸ھ/ ۱۱ / جون ۱۹۷۸ء