شوہر کا دوسرے سے طلاق نامہ لکھوا کر اس پر دستخط کرنے سے وقوع طلاق کا حکم
خالد نے طلاق نامہ لکھا تو نیچے بکر نے اپنا دستخط کیا! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: بکر سے اس کی بیوی ہندہ کے طلاق کے بارے میں کہا گیا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دید ولیکن بکر اپنی بیوی ہندہ کو طلاق دینے پر راضی نہیں تھا لیکن گھر والوں کے مجبور کرنے سے بوجہ مجبوری خالد سے کہا کہ تم طلاق نامہ لکھ دوجب خالد نے طلاق نامہ لکھا تو نیچے بکر نے اپنا دستخط کیا۔ طلاق نامہ کی عبارت یہ ہے جو لکھی گئی ہے کہ: میں لکھنے والا بکر بن محمود راضی خوشی سے اپنی بیوی ہندہ بنت عمرو کو تین طلاق دیتا ہوں“ ایسی صورت میں بکر کی بیوی ہندہ مدخولہ پر کون سی طلاق واقعی ہوئی ؟ براہ کرم شرع کی روشنی میں جواب باصواب مرحمت فرمائیں! المستفتی: محمد ادریس نعیمی منزل محله روشن باغ بھیونڈی تھانہ
الجواب: تین طلاقیں واقع ، جب کہ بے اکراہ شرعی اس نے طلاق نامہ کے مضمون سے مطلع ہوتے ہوئے دستخط کئے ہوں تو بیوی اس پر ایسی حرام کہ بے حلالہ حلال نہ ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی