عدت طلاق کے بعد بھی شوہر سے بالجبر نفقہ وصول کرنا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وفقہاے شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : مسمی زید کی شادی قریب ۲۰ سال پہلے ہندہ سے ہوئی تھی ۔ شادی کے بعد سے ہندہ کو زیدا اپنی شریک حیات بنا کر رکھتا رہا اور اس کے تمام حقوق اپنی حیثیت کے مطابق ادا کرتارہا۔ شادی، نکاح کے بعد ہندہ سے پانچ بچے بھی پیدا ہوئے ، مگر شادی کے کچھ سالوں کے بعد ہندہ نے اپنا طور طریقہ بدل دیا اور وہ زید سے ہمیشہ لڑتی جھگڑتی رہی اور بار بار سمجھانے کے باوجود بھی اپنی عادت کو ٹھیک نہیں کی۔ زید برداشت کرتا رہا اور ہندہ کو سمجھاتا رہا مگر اسے کسی بھی طرح یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ زید کے ساتھ حسن سلوک کرے اور ایک اچھی بیوی کی طرح خوش و خرم رہ کر شوہر کو بھی خوش رکھے۔ آخر میں قریب ۳ سال پہلے ہندہ ایک دن زید سے اس بات پر لڑی کہ وہ بمبئی سے اب جلد اپنے میکے جانا چاہتی ہے۔ زید نے اسے سمجھایا کہ وہ دو چار دن بعد اس کے جانے کا انتظام کر دے گا اور کسی بھی قریبی آدمی رشتہ دار کے ساتھ اس کو اس کے میکے بھجوا دے گا ۔ مگر اس پر بھی وہ راضی نہیں ہوئی اور زید سے لڑ جھگڑ کر بغیر اجازت شوہر کے جبکہ زید گھر پر نہیں تھا، اپنے میکے چلی گئی۔ زید جب اپنے کام کاج سے واپس شام کو گھر لوٹا تو معلوم ہوا کہ اس کی بیوی وطن چلی گئی ہے اور اپنے بچوں کو بھی ساتھ نہیں لے گئی ۔ حالات معلوم ہونے پر پہلے تو زید اسٹیشن و دیگر جگہ جہاں اس کا خیال تھا، معلومات اور تلاش کیا مگر پتہ نہ چلنے پر پھر اس نے قریبی پولیس تھانہ میں رپورٹ درج کروائی کہ اس کی بیوی بغیر اجازت کے نہ معلوم کہاں چلی گئی ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ وہ وطن گئی ہو، کیونکہ وہ ایسا کہتی تھی ۔ کچھ دن بعد زید کو پتہ چلا کہ وہ اپنے وطن یوپی ماں باپ کے گھر پر چلی گئی ہے۔ زید برابر اس بات کی کوشش کرتا رہا کہ ہندہ واپس آ جائے مگر اس نے آنے ورہنے سے انکار کر دیا۔ مسلسل ۲ سال ۱۹ ماہ تک زید انتظار کرتا رہا کہ آجائے کیونکہ وہ اپنا گود کا بچہ ڈھائی ماہ کا بھی چھوڑ کر چلی گئی تھی جس کو زید ہی پرورش کرتارہا اسی طرح پانچ بچے چھوٹے چھوٹے چھوڑ کر گئی تھی۔ آخر مجبور ہوکر زید نے ۳۳ ماہ بعد ہندہ کو طلاق نامہ بذریعہ رجسٹری لینٹر روانہ کر دیا ساتھ ہی
الجواب:فی الواقع اگر زید عدت کا خرچ بقدر کفایت ہندہ بھیج چکا ہے تو اس پر اب کچھ لازم نہیں ۔ ہندہ کا مطالبہ بیجا ہے اور اگر عدت کا نفقہ بقدر کفایت نہ دیا تھا اور عدت ہنوز قائم ہے تو اسے مطالبہ کا حق پہنچتا ہے اور اگر عدت گزرچکی ہے تو عدت کا باقی نفقہ ساقط ہے۔ جبکہ باہم بہ رضائے زوجین یا بحکم حاکم شرع کچھ مقرر نہ ہوا ہو اور ظاہر یہی ہے اور قانون دنیا کا سہارا لے کر عدت کے بعد بھی خود کو نفقہ کا مستحق سمجھتی ہے تو سخت حکم شرعی کی مستوجب ہے کہ ناحق کو حق سمجھنا علماے شرع کے نزدیک کفر ہے اور سخت مضر اعتقاد ومظنہ بربادی ایمان ہونے میں تو شک نہیں۔ اس پر لازم کہ ناحق مطالبہ سے باز آجائے اور تو بہ صحیحہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله۱۹ رشعبان المعظم ۱۴۰۰ھ