ہنسی مذاق میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہو جائے گی!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : زید، خالد اور بکر رات میں بیٹھ کر بات چیت کر رہے تھے ، اتنے میں زید کی بیوی ہندہ آگئی۔ زید نے ہندہ کو مخاطب کر کے کہا کہ تم بار بار ہم سے کہتی ہو کہ ہم کو چھوڑ دو، ہم خالد سے نکاح کریں گے ، ابھی خالد بھی موجود ہے ، تم خالد سے شادی کے لئے تیار ہو تو بتاؤ۔ زید کی بیوی ہندہ نے کہا کہ ہم تو خالد سے شادی کے لئے ہر وقت تیار ہیں جبکہ میرا نکاح آپ کے ساتھ ہو رہاتھا میں اس وقت بھی خوش نہیں تھی۔ میرا نکاح تو آپ کے ساتھ میرے ماں باپ نے مجبورا گر ا دیا ہے، ہم تو خالد سے نکاح کریں گے ۔ اتنے میں زید نے اپنی بیوی ہندہ سے کہا کہ ہم نے تم کو چھوڑ دیا، طلاق دیا، ایک دو تین طلاق۔ اب زید کا کہنا ہے کہ ہم نے تو مذاق سے ایسی بات کہی ہے ، ہنسی مذاق اور ساتھی میں یہ بولنے
صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی زید کے نکاح سے فوراً باہر اور اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ جب تک بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد جماع ہو کر اسے طلاق نہ ہولے اور عدت نہ گزر جائے، زید کو اس سے نکاح حرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم