طلاق نامہ کی تحریر اور انکار کے بعد طلاق کا حکم اور دوسری جگہ نکاح کی شرعی حیثیت
طلاق نامہ دینے سے انکار کیا اور یہ کہا کہ آپ طلاق نامہ کی نقل کر سکتے ہو تو ہم نے فقیر محمد ولد غلام حسین گوبند گڑھ والوں کو بھیجا اور وہ طلاق نامہ کی نقل لے کر آئے جس کی نقل او پر لکھی گئی ہے۔ اب زید کور تم نہیں ملنے کی بنا پر اس نے حلف اٹھا کر کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی۔ زید یہ بھی کہتا ہے کہ اب بھی میری رقم دے دو تو میں طلاق نامہ بھیم والوں سے دلواسکتاہوں۔ مندرجہ بالا تحریر ان کی ثبوت پر جمیلہ بانوں بنت محمد شفیع کی نکاح دوسری جگہ کر دیا تو یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں ؟ مدلل جواب عنایت فرماویں۔ بقلم عبدالمجید قریشی کمپاؤنڈر راج گڑھ
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ اس شخص نے اتنے کثیر لوگوں کے سامنے اپنی منکوحہ کو وہ طلاق ہے جبر و اکراہ لکھا تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں ثابت ہو گئیں اور وہ اس کے نکاح سے فوراً باہر ہو کر اس پر ایسی حرام ہو گئی کہ بے حلالہ اسے کبھی حلال نہ ہوگی۔ اب اس کا انکار شرعانا مسموع اور جمیلہ کا نکاح اگر بعد عدت کیا گیا تو صحیح ہو اور نہ نادرست اور مردوزن پر علیحدگی فرض۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ