حاکم کے دباؤ پر بغیر اضافت کے لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع ہونے کا بیان
طلاق، یا میں نے طلاق دی۔ فقط حاکم کے کہنے سے تین بار کہا طلاق طلاق طلاق ۔ جب زید عدالت سے واپس آیا، لوگوں نے زید سے دریافت کیا کہ کیا تم نے زوجہ کو طلاق دے دی ؟ زید نے جواب میں کہا اور کیا کہ رہا ہوں، حاکم نے کہا تم طلاق دے دو، میں نے کہا طلاق، حاکم نے کہا کہ تین بار کہو طلاق طلاق طلاق، میں نے تین بار کہا طلاق طلاق طلاق ۔ اور عورت کو طلاق دینے کا ارادہ نہ اول تھا نہ اب ہے۔ اب بے ہوشی کی حالت میں جو کچھ حاکم نے کہا میں نے کہا۔ آپ علمائے کرام کی خدمت میں سوال ہے کہ صورت مسئولہ میں زید کی عورت کو طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟ اگر واقع ہوئی تو کون سی طلاق ؟ اور اپنی زوجہ سے تجدید نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
الجواب: شوہر عاقل بالغ کی طلاق اگر چہ غلام ہو، اگر چہ طلاق پر مجبور کیا جائے، یا گھبراہٹ میں دے یا بطور ہنرل ہو، اگرچہ طلاق دینے والا خفیف العقل بھی ہو یا نشہ پی کر مست ہو، بہر حال طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ تنویر الابصار میں ہے : "يقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو عبد او مكرها او هاز لا او سفيها او سكران" ہاں بصورت صدق سوال فی الواقع زید نے حاکم کے مجبور کرنے کی وجہ سے صرف طلاق طلاق طلاق ہی کہا یعنی نہ عورت کا نام لیا اور نہ اس کی طرف اشارہ کیا اور نہ یہ کہا کہ تجھے طلاق ہے یا میری بیوی کو طلاق۔ اس صورت میں چونکہ اضافت نہیں ہے اس لئے طلاق واقع نہ ہوئی۔ ردالمختار میں تحت قول ”لتركة الاضافة “فرمایا: "فانها شرط والخطاب من الاضافة المعنوية وكذا الاشارة نحو هذه طلاق وكذا نحو امراتي طالق وزينب طلاق" یعنی طلاق میں اضافت شرط ہے اور وہ خطاب کر کے بیان کرے یا اشارہ سے جیسے اسے طلاق ہے یا میری بیوی کو طلاق ہے یا نام لے کر کہے کہ زینب کو طلاق۔ پس صورت مذکورہ میں طلاق واقع نہ ہوگی، یہ واضح رہے کہ مفتی ظاہر سوال کے جواب کا ذمہ دار ہے لان الفتوى على الظاهر . والله اعلم بحقيقة الحال واليه المرجع والمال. فقط المستغنی: مولوی نور محمد، چین، بھیرو نمره، ایم پی الجواب: صورت مسئولہ میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور اضافت کا لفظ شوہر میں ہوناضرور نہیں بلکہ سائل کے کلام میں ہونا بھی کافی ہے اور یہاں سائل طلاق حاکم ہے جس نے کہا کہ عورت کو طلاق دے دو اور جب اس کے لفظ میں اضافت موجود ہے تو لفظ شوہر میں بھی اضافت موجود اگر چہ ظاہر نہیں مقدر تو ضرور ہے کہ قاعدہ ہے ”ان السوال معاد فی الجواب، نظیر وہ مسئلہ ہے جو در مختار میں خلاصہ سے ہے اور وہ یہ کہ شوہر سے پوچھا کیا تو نے عورت کو طلاق دے دی ؟ اس نے کہا ہاں، عورت پر طلاق واقع ہوگئی۔ وهذا نصه: "في البحر قيل له طلقتها قال ن ع م او ب ل ى بالهجاء وان لم يتكلم به ". (1) بلکہ ہمارے مسئلہ میں وقوع طلاق بالاولویۃ ہے کما ھو ظاھر۔ اور یہاں سے ظاہر کہ جزئیہ منقولہ مفتی صاحب مرحوم و مغفور اس جزئیہ سے معارض ہے جو ہم نے اسی در مختار سے نقل کیا۔ پھر وہ جزئیہ یوں محل نظر ہے کہ اس میں مطلقا عدم وقوع طلاق کا حکم ہے اور بزاز یہ میں کہ اس جزئیہ کا ماخذ ہے اس مسئلہ میں تفصیل فرمائی کہ اگر ”انی حلفت بالطلاق“ سے مخاطب عورت کے طلاق کا ارادہ کیا تو اس پر طلاق واقع ہوگئی اور اگر غیر مخاطب کو مراد لیا تو قول شوہر کا معتبر ہو گا۔ اسی لئے ردالمحتار میں مفتی صاحب مرحوم کی عبارت منقولہ کے بالکل متصل فرمایا: اقول وما ذكره الشارح من التعليل اصله لصاحب البحر اخذا من قول البزازية فى الايمان قال لها لا تخرجى من الدار الا باذنى فانى حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم ذكر حلفه بطلاقها ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له اه ومثله فى الخانية وفى هذا الاخذ نظر فان مفهوم كلام البزازية انه لو اراد الحلف بطلاقها يقع الخ. بلکہ اسی ردالمختار میں جزئیہ منقولہ در مختار کے خلاف تنبیہ سے ایک جزئیہ نقل کہ وهذا نصه : " فى القنية قال عاز يا الى البرهان صاحب المحيط رجل دعته (1) رد المحتار، کتاب الطلاق باب الصريح، ج ٤ ، ص ٤٦٠ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الصريح، ج ٤ ، ص ٤٥٨ ، دار الكتب العلمية، بيروت جماعة الى شرب الخمر فقال انى حلفت بالطلاق انى لا اشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت وقال صاحب التحفة لا تطلق ديانة". (0) بالجملہ اضافت لفظیہ ہوناضرور نہیں بلکہ نیت و دلالۃ اضافت ہونا بھی کافی ہے۔ اسی ردالمختار میں مفتی صاحب کی منقولہ عبارت کے چند سطروں بعد ہے: ولا يلزم كون الاضافة صريحة . (۳) اور عادت جاری ہے کہ آدمی اپنی ہی عورت کو طلاق دیتا ہے نہ کہ اجنبیہ کو جو محل طلاق ہی نہیں تو عرفا وہی مراد ہوگی اور قاضی عدم نیت میں شوہر کی تصدیق نہ کرے گا اسی لئے علی الطلاق علی الحرام “ وغیرہ سے اسی در مختار میں طلاق کے وقوع کی تصریح کی حالانکہ یہاں بھی اضافت صریحہ موجود نہیں۔ ردالمختار میں ہے: لأن العادة ان من له امرأة انما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها فقوله انى الالفاظ حلفت بالطلاق ينصرف اليها ما لم يرد غيرها وسيذكر قريبا ان من المستعملة الطلاق يلزمنى والحرام يلزمنى وعلى الطلاق وعلى الحرام فيقع بلانية للعرف الخ، فاوقعوا به الطلاق مع انه ليس فيه اضافة الطلاق اليها صريحا فهذا مؤيد لما في القنيه وظاهره انه لا يصدق فى انه لم يرد امرأته للعرف . (۳) والله اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۷ / ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ (1) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الصريح، ج ٤ ، ص ٤٥٨ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) رد المحتار، کتاب الطلاق، باب الصريح، ج ٤ ، ص ٤٥٨ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) ردالمحتار، کتاب الطلاق، باب الصريح، ج ٤ ، ص ٤٥٨ ، ٤٥٩ ، دار الكتب العلمية، بيروت