حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کے انکار کا حکم اور اس پر قرآنی دلائل
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضور ہی کو علم غیب نہیں تھا تو ہم اس شخص کو مسلمان کہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور وہ شخص کہتا ہے کہ اگر علم غیب تھا تو اس کو قرآن شریف اور حدیث شریف سے ثابت کرو کہ حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب تھا۔ جواب سے آگاہ کریں ! المستفتی: شمر الدین، گلاب نگر ، مسجد نواب آزاد خاں، بریلی شریف
الجواب: کسی نبی (صلی اللہ تعالی علی نبینا وعلیہ وسلم) کے علم غیب کا مطلق انکار کفر ہے کہ اس کی نبوت کا انکار ہے۔ نبی تو کہتے ہی اسے ہیں جو غیب کی خبر دے۔ المنجد میں ہے: (النبي) هو المخبر عن الغيب او المستقبل بالهام من الله . اور مصباح اللغات میں عبد الحفیظ بلیاوی دیوبندی نے بھی اسکا ترجمہ غیب کی خبر دینے والا اور ہمارے نبی علیہ وآلہ و صحبہ الصلاۃ الدائمۃ والسلام الدائم کو اللہ تعالیٰ نے علوم اولین و آخرین اور اس سے بھی مزید عطا فرمایا کہ ان پر وہ کتاب اتاری جس میں ہر شے کا روشن بیان ہے۔ قال تعالى: تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ“ (۲)،، اور اسی میں ہمارے نبی کریم سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے لئے فرمایا: وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍ (M)66 یہ نبی غیب کی خبریں بتانے میں بخیل نہیں۔ (1) المنجد في اللغة للويس مالوف ، ص ٧٨٤، مطبع الكاثولكية، بيروت (2) النخل : ٨٩ (3) التكوير: ٢٤ بلکہ اسی میں ہمارے نبی عظیم القد ورفیع الشان صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے لئے وہ علوم غیبیہ ثابت فرمائے جس کی کنہ سے جبریل امین وحی بھی واقف نہیں بلکہ حاشا کسی فرشتے، کسی نبی علیہم السلام کو اس کی خبر نہیں کہ فرمایا: (۱) ،، ”فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى ) یعنی اپنے پیارے بندے محمد بالایی لیلی کو وحی کی جو وحی کی ۔ مگر جو مطلقا علم غیب کا منکر ہو کہ اصل نبوت کا ہی منکر ہو جائے وہ پھر قرآن کو کیوں نہ جھٹلائے گا۔ اور تفصیل کے لئے " انباء المصطفے " " الكلمة العلما" وغیرہ دیکھیں۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی یکیم ر ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف