یارسول اللہ پکارنے کا صحیح عقیدہ اور علوم خمسہ کے متعلق سوال
” یارسول اللہ ندا کرنے میں عقیدہ کیا ہونا چاہئے ؟ مکر می جناب مولانا صاحب ! السلام علیکم گزارش ہے کہ پہلی بار خط لکھنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں ، امید ہے کہ جواب ضرور دیں گے ۔ (1) عرض یہ ہے کہ ” یارسول اللہ “ نداء جو کرتے ہیں تو اس میں کیا عقیدہ ہونا چاہئے ؟ آیا سامنے آنا ایسا جیسا کہ ہوا یا پانی کو ندا کرتے ہیں ؟ (۲) اور دوسری عرض یہ ہیکہ جاء الحق مصنفہ مفتی احمد یار خاں میں لکھا ہیکہ علوم خمسہ کے بعض جزئیات کا حضور پاک کو علم دیا گیا ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں اور علم غیب بعض سے کتنا مراد ہے؟ فقط والسلام خاکسار محمد لقمان ، کلکتہ نمبر ۱۶
الجواب: (1) حضور اقدس یا قبر شریف میں اپنے روح و جسم شریف کے ساتھ بحیات حقیقیہ رونق افروز ہیں اور حضور سرور عالم علیہ السلام کے سمع و بصر حیات ظاہری میں تمام بشر کے سمع و بصر سے افضل تھے، صحیح حدیث میں وارد ہوا کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے اور موت کے بعد عام انسان کے سمع و بصر دنیوی زندگی کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہوتے ہیں تو کیا خیال ہے کا ملان دین کے سمع و بصر کے بابت وہ عام انسانوں کے سمع و بصر سے کس قدر فزوں ہوں گے اور سید الکاملین سرور انبیاء علیہ وعلیہم السلام کے سمع و بصر ، قدرت و تصرف ان سب سے بدر جہا افزوں کیوں نہ ہو کہ مومن کامل دل میں یہ جمائے کہ میرے سرکار ابد قرار علیہ التحیة الدائمہ والسلام المدار مجھے دیکھ رہے ہیں اور میری پکار سن رہے ہیں اور یہ خود التحیات کی تعلیم ہے کہ ”السلام علیک ایھا النبی “ کہنے کا حکم ہے۔ یہیں سے حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: و نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصب العین مؤمناں وقرۃ العین عابدان است در همه لخ (1) احوال و اوقات الخ اور فرماتے ہیں: ذکر کن اور ا و در و د بفرست بروی و باش گویا که بینی تو اور او بدانکه وے بالا می بیند و می شنود کلام ترا (۲) متفطا۔ وھو تعالی اعلم (۲) [۱] قیامت کب ہے۔ [۲] ماں کے پیٹ میں کیا ہے ، نر یا مادہ ۔ [۳] بارش کب ہوگی۔ [۴] کوئی کل کیا کرے گا۔ [۵] کون کہاں مرے گا۔ ان باتوں کا علم ذاتی مثل دیگر علوم غیبیہ خدائے تعالیٰ ہی کو ہے اور اس کی تفاصیل غیر متناہیہ اسی کو معلوم ہیں، کسی بندہ کو نہیں اور اس کی عطا سے اس کے انبیاء و اولیاء کو بھی ہے بلکہ بعض جزئیات کا علم بعض کا ہنوں کو بھی ہوا ہے اور اس پر خود آیت کریمہ کا آخر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک اللہ جاننے والا بتانے والا ہے اور سورہ جن میں فرمایا: وہ غیب جاننے والا مطلع نہیں کرتا اپنے غیب پر کسی کو سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے اور تفصیل کے لئے ” لکلمۃ العلیا“ وغیرہ رسائل علمائے اہل سنت دیکھئے۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله