ترک واجب کا عادی فاسق معلن، اس کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: (1) امام صاحب کا سجدے کی حالت میں چھ انگلیوں کا پیٹ لگنا واجب ہے ۔ اگر واجب ترک ہو تو مقتدی کا نماز پڑھنا جائز ہے کیا؟ (۲) اگر امام نماز کی حالت میں سجدے میں جاتے وقت پہلے ہاتھ پھر گھٹنار کھتے ہیں تو کیا نماز جائز ہے ؟ (۳) اگر امام مرد اور عورتوں کے درمیان مجمع کوئی غلط سلط گندے الفاظ نکالے تو کیا اس کے پیچھے نماز جائز ہے؟ (۴) پھر مجمع میں اگر امام کی اہلیہ ان کی توہین کرے تو کیا وہ امامت کر سکتے ہیں؟ قبلہ محترم قرآن اور حدیث سے اس کا جواب جلد دیں۔ المستفتی: محمد حسین عبد اللہ عرف قالو بھائی ( متولی ) ، جونی دانیا سیری گھوگھلا ( دیو)
(1) واجب ترک ہونے سے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے اور اس کا عادی فاسق معلن ہوتا ہے جبکہ اس پر ترک واجب کی عادت ثابت شرعا ہو جائے اور فاسق معلن کو امام بنانا گناہ اور نماز واجب الاعادہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہاتھ پہلے نہ رکھنا چاہئے ، اگر چہ نماز ہو جائے گی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) اگر یہ واقعہ ہے کہ وہ شخص گندے لفظ بر سر عام بولتا ہے تولائق امامت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ اعلم (۴) اما کی اہلیہ گناہگار ہوئی اور اس کے ارتکاب توہین سے امام پر کیا الزام ہے کہ اس کی امامت ممنوع ہو؟ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله ۲۷/ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ