مسجد کی تعمیر کے لیے جمع کردہ رقم اور وقف مشاع کا حکم
جو منہدم ہو چکی تھی اور اس جگہ کی بے حرمتی سے متاثر ہو کر جملہ برادران اسلام نے مل کر اس کی حرمت کو بچانے کے لئے تین فٹ اونچی بنیادیں بھر دی ہیں۔ اب کچھ لوگوں کا مشورہ ہے کہ اس رقم سے قدیم مسجد کی بھی تعمیر کی جاوے لیکن محلہ اتنا کفیل نہیں ہے جو دونوں مسجدوں کے اخراجات کا بار برداشت کر سکے کیونکہ دونوں مسجدیں محلہ میں قریب ہی قریب ہیں۔ لہذا اس روپیہ سے قدیم مسجد کی تعمیر کی جائے یا جدید مسجد کے صرف لایا جاوے؟ اس کا جواب مرحمت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں، فقط ۔ والسلام مسلمانان محلہ چھوٹی مسجد ، کچھا ضلع نینی تال (یوپی)/ ۱۲ / اگست ۱۹۸۱ء
الجواب:
وہ زمین اگر مسلم و غیر مسلم کے درمیان مشترک تھی تو اس کا وقف صحیح نہ ہوا کہ اس غیر مسلم کا وقف صحیح نہیں اور زمین جب دونوں میں مشترک تھی تو غیر مسلم سے مسلم کا حصہ مفرز و ممتاز نہ ہوا تو وقف مشاع ہوا اور وقف مشاع شے ، قابل قسمت کا صحیح نہیں۔ کنز و تبیین میں ہے: ( و يفرز) اى لا يجوز حتى يفرز يحترز به من المشاع فانه لا يجوز وقفه وعند ابي يوسف يجوز واما عند محمد فلا يتم الوقف مع الشيوع فيما يحتمل القسمة . ) اور وہ زمین ملک مالکان پر وقف رہی، ان کی اجازت سے اس کی رقم جہاں وہ چاہیں، لگانا جائز ہے اور اگر مسلم کا حصہ جدا تھا یا وقف کرنے سے پہلے اسے جدا کر لیا تھا تو خاص قطعہ مسلم کا وقف صحیح ہوا اور اب خاص قطعہ مسلم کی آمدنی مسجد قدیم پر خرچ کرناضرور تھا اور ہے۔ کنز الدقائق و تبیین الحقائق میں ہے: و يبدا من غلته بعمارته بلا شرط لان قصد الواقف صرف الغلة دائما ولا يبقى دائما الا بالعمارة فيثبت اقتضاء من غير شرط . اور قلعہ مغیر مسلم کی رقم میں یہ شرط مذکور اختیار ہے۔ واللہ تعالی اعلم تكملة فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۲ر شوال المکرم ۱۴۰۱ھ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران، بریلی شریف