دور جعی طلاق تک عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین ایک مسئلہ میں کہ: زید نے مکان کے اندر اپنی ہندہ سے ایک دو بار کہا کہ بی بی ہم نے تجھے طلاق دی، طلاق دی، اس کے بعد باہر مکان کے لڑکی کے نانا اور ماں اور بھائی کے سامنے کئی بار یہ لفظ کہا کہ ”میں نے تو فارقتی دے دی “جبکہ مکان کے اندر سے لڑکی باہر آگئی تھی، اس نے اپنے سامنے خود کانوں سے سنا کہ میرا شوہر کئی بار کہ گیا کہ ”میں تو طلاق دے چکا ہوں“۔ اب میں کبھی بھی نہ آؤں گا اور کلام پاک کی قسم نہ اس کی شکل یعنی نہ صورت دیکھوں گا، قسم بھی کئی بار کھائی، نہ اپنی صورت دکھاؤں گا اور نہ مجھے تجھ سے مطلب غرض اور قریب ابھی تک نہ آیا۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ جواب برائے کرم دیں۔ المستفتی: احسان الحق عرف بدلو، انصاری محلہ ادنی پورہ، کالپی ، جالون
الجواب: اگر یہ واقعہ ہے کہ زید نے ہندہ کو دو طلاقیں صریح لفظ طلاق سے دیں اور پہلی ایک نہ دی تھی تو ہندہ پر دور جعی طلاقیں واقع ہو گئیں۔ عدت کے اندر رجعت کا اختیار ہے جس کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ دو نمازیوں کے سامنے کہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجعت کی ، اسے نکاح میں لیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور خط کشیدہ جملوں کا ظاہر بیان واقعہ ہے، اگر ان جملوں سے طلاق کا قصد کیا ہو تو تین طلاقیں ہوئیں اور اب رجعت نہیں ہو سکتی۔ سئله - ۵۲ فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ور شوال المکرم ۵۱۴۰۱ دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران ، بریلی شریف